پی ٹی آئی کے11 نکاتی ایجنڈے کا ایک پوائنٹ مکمل ہوگیا

وفاقی حکومت نےفاٹا کوقومی دھارے میں شامل کرکے پی ٹی آئی کےایجنڈے کےایک پوائنٹ کا سہرا اپنے سرسجا لیا،عمران خان نے فاٹا کےخیبرپختونخواہ میں انضمام سمیت گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 17:23

پی ٹی آئی کے11 نکاتی ایجنڈے کا ایک پوائنٹ مکمل ہوگیا
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔24 مئی 2018ء) : وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے 11 نکاتی ایجنڈے کا ایک پوائنٹ پورا کردیا،،عمران خان نے گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا جس میں فاٹا کا خیبرپختونخواہ میں انضمام بھی شامل تھا۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے گیا رہ نکاتی ایجنڈے کا ایک پوائنٹ حکومت میں آنے سے پہلے ہی پورا ہوگیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مینارپاکستان میں اقبال گریٹرپارک میں عوامی جلسے میں پی ٹی آئی کا گیارہ نکاتی منشور اور ایجنڈا پیش کیا تھا۔

اس گیارہ نکاتی منشور میں جہاں صوبہ جنوبی پنجاب،، سمیت دیگر چیزیں شامل تھیں وہاں فاٹا کا خیبرپختونخواہ میں انضمام کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے فاٹا اصلاحات پرعملدرآمد کیلئے کام تیز کردیا۔

(جاری ہے)

تاکہ فاٹا کے معاملے پرتحریک انصاف کی سیاست کو غیرفعال کیا جاسکے۔تاہم مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے فاٹا اصلاحات کے بعد فاٹا بل کو آج قومی اسمبلی میں منظور کرلیا ہے۔

فاٹا بل کی حمایت میں 229 ارکان اسمبلی نے ووٹ ڈالا جبکہ ایک رکن نے مخالفت میں ووٹ دیا۔۔مسلم لیگ ن نے فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرکے یہ سہرا اپنے سرسجا لیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج قومی اسمبلی نے تاریخی بل پاس کیا ہے اس کے نتایج مثبت ہوں گے۔بل کی منظوری کیلئے حمایت کرنے پر اپوزیشن ارکان کا شکرگزار ہوں۔

انہوں نے کہاکہ ہم فاٹا کے عوام کا اعتماد حاصل کریں گے۔۔فاٹا میں ترقیاتی کام شروع کروائے جائیں گے اور فاٹا کے عوام کو وہی سہولتیں ملیں گی جو باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔۔وزیراعظم شاہد خاقا ن نے کہا کہ جس طرح آج ہم نے ایک قومی مفاہمت کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح ہمیں باقی پیچیدہ معاملات میں بھی قومی مفاہمتی عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔مزید برآں فاٹا بل کی منظوری کے موقع پرآج چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بھی اسمبلی اجلاس میں گئے اور فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کے حق میں ووٹ دیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ فاٹا کیلئے بل پاس کرنا بہت بڑا قدم ہے۔مبارکباد پیش کرتا ہوں۔دہشتگردی کے باعث قبائلی علاقوں کے نقصانات کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے ۔ اب یہ پاکستان کا حصہ بھی بن جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان پربھی قانون کا نفاذ ہوگا۔ہمیں فاٹا کے لوکل سسٹم کوبھی بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم فعال کیا اور الیکشن جلد کروائے جائیں۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں شروع میں مشکلات پیش آئیں گی۔ کمیٹی بنائی جائے جوقوانین پرنظرثانی کرے۔انہوں نے کہاکہ صوبہ بنانے کا جو بھی آئیڈیا دے رہا اس کوسمجھنا چاہیے کہ یہ مطالبہ ٹھیک نہیں ہے۔واضح رہے فاٹا کے قومی دھارے میں شامل ہونے سے وفاق فاٹا کیلئے 10سالوں میں 100ارب روپے جاری کرے گا۔ فاٹا کیلئے ہر سال 10ارب روپے جاری کیے جائیں گے تاکہ وہاں ترقیاتی عمل کو تیز کیا جاسکے گا۔