مراد علی شاہ نے صوبہ بنانے والوں پر حقارت کی نگاہ ڈالی تو ایسا محسوس ہوا وہ ذوالفقار علی بھٹو پر لعنت بھیج رہے ہیں،آفاق احمد

مراد علی شاہ اور خورشید شاہ مہاجروں کیخلاف ایسی زبان استعمال کرنے پر گریز کریں،اسمبلی کے فلور پر صوبے کی بات کرنے پر نفرت کا اظہار کیا ہے،پریس کانفرنس

جمعرات مئی 17:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ سیدمراد علی شاہ نے صوبہ بنانے والوں پر حقارت کی نگاہ ڈالی تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو پر لعنت بھیج رہے ہیں۔سیدمراد علی شاہ اور خورشید شاہ مہاجروں کے خلاف ایسی زبان استعمال کرنے پر گریز کریں۔۔اسمبلی کے فلور پر صوبے کی بات کرنے پر نفرت کا اظہار کیا ہے یہ رویہ جمہوری روایات کے بر عکس ہے۔

مہاجر قوم کا لحاظ رکھا جائے۔ورنہ میں اپنے کارکنان کو نہیں روک سکوں گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ڈیفنس میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔۔آفاق احمد نے کہا کہ سید مراد علی شاہ نے صوبے اور مہاجروں کے لئے آمرانہ تضحیک آمیز جملے بولے اسکی مذمت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اسمبلی کے فلور پر صوبے کی بات کرنے پر نفرت کا اظہار کیا ہے یہ رویہ جمہوری روایات کے بر عکس ہے۔

یہ سوچ وڈیرہ شاہی سوچ کی عکاس ہے۔ سیدمراد علی شاہ نے صوبہ بنانے والوں پر حقارت کی نگاہ ڈالی تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ 1972 میں بھٹو نے لسانی برتا کیا اور کوٹہ سسٹم شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں امتیازی سلوک بھٹو نے شروع کیا۔ ہم پر لعنت بھیجنے کی بجائے انہیں اپنے لیڈر پر لعنت بھیجنی چاہیے۔

خورشید شاہ نے بھی سخت الفاظ بولے جو تکلیف دہ تھے۔انہوں نے کہا کہخورشید شاہ نے کہا مہاجر نام نہیں بلکہ پناہ گزین ہیں۔ ہم پناہ گزین نہیں ہم ہجرت کر کے آئے ہیں۔ ہم پناہ گزین نہیں جو عارضی ہوتا ہے۔ خورشید شاہ کومہاجر اور پناہ گزین کا فرق سمجھنا چاہیے۔ ہم اگر صوبے کی بات کر رہے ہیں تو اسکی بنیادبھٹو نے رکھی تھی۔۔آفاق احمد نے کہا کہ سیدمراد علی شاہ نے دھمکی نواز رویہ ادا کرتے ہوئے صوبے کی جدوجہد کرنے والوں پرلعنت بھیج کرآمرانہ سوچ کی عکاسی کی ہے۔

وڈیروں کی اسمبلی میں موجودگی میں شہری علاقوں کے عوام حقوق حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔وقت تقاضہ کررہا ہے شہری آبادی کا اپنا صوبہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کی جدوجہد کررہے ہیں تواس کی بنیاد ذوالفقار بھٹو نے دی۔ اگر اب ہم الگ صوبے کی بات کر رہے ہیں تو کیا غلط ہے۔سند ھ دھرتی ماں کی تقسیم کا رونا رویا جاتا ہے۔ہم انکو بھی جانتے ہیں جو آج سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں جو ہندی ترانے پر سیلیوٹ کرتے تھے۔

آگ بگولہ ہونا انکو زیب نہیں دیتاہیں۔اگر کوئی کالا باغ ڈیم کی بات کرے تو زمین اور آسمان ایک کردیا جاتا ہے۔۔سندھ کے عوام کو سمجھانا چاہتا ہوں۔وہ کبھی سندھ کے دیہی علاقوں میں اپنی پرفارمنس پر ووٹ نہیں مانگتے۔جب الیکشن قریب آتے ہیں تو مہاجروں کے خلاف سندھیوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھیوں کو ووٹ ڈالنا ہے تو انکی پرفارمنس کی بنیاد پر دیں۔انہوں نے کہا کہ میری قوم کے لئے جو کام کرے گا میں اس کے ساتھ ہوں۔بہادر آباد اور پی آئی بی اگر ساتھ ہوجاتے ہیں تو پھر ہم ان کی دی ہوئی دعوت پر غور کریں گے۔