محکمہ برقیات ہنزہ و نگر کے 5منصوبوں کے ٹینڈرز کا لعد م قرار

جمعرات مئی 18:24

گلگت۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) جسٹس ملک حق نواز کی سربراہی میں چیف کورٹ کی ڈویژن بینچ نے محکمہ برقیات ہنزہ و نگر کے 5منصوبوں کے ٹینڈرز میں میرٹ کی پامالی پر ٹینڈرز کا لعد م قرار دیکر منسوخ کر تے ہوئے دوربارہ ٹینڈرز کا حکم دیدیااور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو میرٹ کی پامالی میں ملوث آفیسرز اور بیڈنگ کمیٹی کے ممبران کے خلاف اعلی سطح پر ایماندار آفیسر کی سر براہی میں انکوائری کر کے ہیرہ پھیری میں ملوث افراد کیلئے سزاکا تعین کر کے 2ماہ میں انکوائری رپورٹ فاضل عدالت کے رجسٹرار کے دفترمیں پیش کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔

(جاری ہے)

جمعرات کو جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس محمد عمر پر مشتمل چیف کورٹ کی ڈویژن بینچ نے ایم ایس شاہین اینڈ سنز گورنمنٹ کنٹریکٹر اور دیگر کی رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے محکمہ برقیات ہنزہ نگر کے 5منصوبے 2میگاواٹ ہسپر نگر ،2میگاواٹ داہیٹر نگر ،0.5میگاواٹ چھلت نگر 2میگاواٹ حسین آباد ہنزہ اور 0.5میگاواٹ میون ہنزہ نگر کے ٹینڈرز میں میرٹ کی پامالی ثابت ہونے پر ٹینڈرز کو کالعدم قرار دیکر منسوخ کر کے دوبارہ ٹینڈر کرانے کا حکم دیتے ہوئے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو حکم بھی دے دیا کہ میرٹ کی پامالی پر ٹینڈر کے مجاز آفیسران و ممبران بیڈنگ کمیٹی کے خلاف اعلی سطح پر ایماندار آفیسر کی سر براہی میں انکوائری کر کے ہیرہ پھیری میں ملوث آفیسران کو سزا تعین کر کے ان کی سروس بک کا حصہ بنا کر دو ماہ میں انکوائری رپورٹ فاضل عدالت کے رجسٹرار کے دفترمیں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے جسٹس ملک حق نواز کی تحریر شدہ 28صفحات پر مشتمل فیصلہ فاضل بینچ نے جاری کر دیاجسٹس ملک حق نواز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کا محافظ ہے جس کی خلاف ورزی پر کاروائی عدالت کی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا ایم ایس شاہین اینڈ سنز کی جانب سے ایڈوکیٹ امجد حسین جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈووکیٹ محمد ذکریا نے عدالت میں قانونی دلائل دئیے،

متعلقہ عنوان :