فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے پارلیمان کے فیصلے سے پاکستان کی جیت ہوئی ہے‘ انضمام کے فیصلے سے قبائلی عوام کے تحفظات کا ازالہ ہوگا

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام بل کی منظوری کے بعد خطاب

جمعرات مئی 18:41

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے پارلیمان کے فیصلے سے پاکستان کی ..
اسلام آباد۔ 24 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے پارلیمان کے فیصلے سے پاکستان کی جیت ہوئی ہے‘ قبائلی علاقوں میں خلاء موجود تھا جسے بیرونی کھلاڑی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے تھے‘ انضمام کے فیصلے سے قبائلی عوام کے تحفظات کا ازالہ ہوگا۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام بل کی منظوری کے بعد اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ آج پاکستان کی بہت بڑی جیت ہے اور وقت ثابت کرے گا کہ یہ کتنا دوررس نتائج کا حامل فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں سقم موجود تھے اور یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ان علاقوں میں نظام منہدم ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں خلا تھا جسے بیرونی کھلاڑی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔

(جاری ہے)

ایسے خدشات موجود تھے کہ کہیں دوبارہ وہ حالات سامنے نہ آئیں جن کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے قبائلی عوام کے تحفظات کا ازالہ ہوگا۔ اب یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بن جائے گا تاہم اس میں خطرات موجود ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ایک پرانا سسٹم چلا آرہا تھا جو اب تبدیل ہو رہا ہے۔

قبل ازیں دیر اور سوات کا جب پاکستان کے ساتھ ادغام ہوا تو انفراسٹرکچر نہ ہونے کے باعث جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا کیونکہ ججز اور وکیل موجود نہیں تھے۔ اور لوگ پرانے نظام کے تحت انصاف چاہتے تھے۔ انہی حالات میں ان علاقوں میں تحریک نفاذ شریعت کا آغاز ہوا تھا اس لئے ضروری ہے کہ فاٹا کے انضمام کے حوالے سے انفراسٹرکچر ہونا چاہیے۔ کے پی کے میں ہم نے تھانوں میں جسٹس ڈسپیوٹ سسٹم بنایا ہے جہاں ریٹائرڈ ججز فیصلے کرتے ہیں۔

ہمیں مرحلہ وار قانون کو نافذ کرنا ہے۔ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور فاٹا میں بحالی کا سارا کام مقامی حکومتوں کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو اس انضمام کے مخالفت کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی متبادل نظام نہیں ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کا نظام کرپشن کا نظام تھا جس میں لوگوں کا استحصال ہو رہا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ ایوان میں ان کی کافی تلخی رہی ہے ہم نے یا پارٹی نے جو بھی موقف لیا ہے وہ عوامی رائے پر مبنی تھا۔

22 جماعتوں نے سپریم کورٹ میں دھاندلی کی بات کی تھی تو کیا چار حلقوں کو کھولنے والا ہمارا مطالبہ غلط تھا۔ ہم نے پارلیمان اور الیکشن کمیشن سے مایوس ہونے کے بعد دھرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امپائر سے ان کی مراد اللہ ہے۔ پانامہ منی لانڈرنگ کا کیس تھا تو کیا ہمارا مطالبہ غلط ہے کہ منی ٹریل دیا جائے۔ میرا ضمیر صاف ہے، مفادعامہ کیلئے یہاں کھڑا ہونا میرا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہال میں ایسے لوگ ہیں جن کا غریبوں سے کوئی سروکار نہیں ہے، مجھے فخر ہے کہ ہم نے جدوجہد کی۔