پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا ، نواز شریف

ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، عدالت کے سامنے معاملہ آیا تو میں نے بتا دیا، حقائق تھے جو منظر عام پر آنا چاہیے تھے، ان مسائل نے 70سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی، مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے، خوشگوار حیرت ہوئی کہ گزشتہ روز میڈیا نے میرا سارا بیان دکھایا،میڈیا اپنے ہاتھ پا ئو ں ٹھنڈے نہ پڑنے دے سابق وزیراعظم کی احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو

جمعرات مئی 19:36

پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدسابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پیغام پہنچانے والے ماتحت ادارے کے افسر کو ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا، ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، عدالت کے سامنے معاملہ آیا تو میں نے بتا دیا، حقائق تھے جو منظر عام پر آنا چاہیے تھے، ان مسائل نے 70سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی، مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے، خوشگوار حیرت ہوئی کہ گزشتہ روز میڈیا نے میرا سارا بیان دکھایا،میڈیا اپنے ہاتھ پا ئو ں ٹھنڈے نہ پڑنے دے۔

جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران صحافی کے سوال 'ماتحت ادارے کے جس سربراہ نے آپ کو پیغام پہنچایا اس سے استعفیٰ کیوں نہیں لیا جس کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میں نے تحمل، درگزر، بردباری اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ میں اس ادارے کے سربراہ کو برطرف کر سکتا تھا لیکن ملکی مفاد میں برطرف نہیں کیا اور درگزر سے کام لیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، عدالت کے سامنے معاملہ آیا تو میں نے بتا دیا، حقائق تھے جو منظر عام پر آنا چاہیے تھے، ان مسائل نے 70سال سے ہماری جان نہیں چھوڑی۔صحافی نے سوال کیا کہ اگر سر جھکاکے نوکری نہیں کی تو مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ کیوں لیا جس پر نواز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مشاہداللہ اور پرویز رشید سے استعفیٰ لینا بھی اس بردباری اور درگزر کا نتیجہ ہے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ گزشتہ روز میڈیا نے میرا سارا بیان دکھایا، سب کو کھڑا ہونا پڑے گا اور سب کھڑے ہوں گے تو سب ممکن ہوگا۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ میڈیا کا حق ہے کہ وہ یہ سب دکھائے، میڈیا اپنے ہاتھ پا ئو ں ٹھنڈے نہ پڑنے دے۔