امریکہ کا ایک بار پھر پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘کا مطالبہ

پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے، افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے پاکستان کی آمادگی پر ہے، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ہمارے دل کے قریب ہے،یہ مقصد حاصل کریں گے،پاکستان میں امریکی اہلکاروں کیساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ

جمعرات مئی 19:40

امریکہ کا ایک بار پھر  پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘کا مطالبہ
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان سے ایک بار پھر 'ڈو مور' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے،،افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر ہے، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ہمارے دل کے قریب ہے،یہ مقصد حاصل کریں گے،،پاکستان میں امریکی اہلکاروں کیساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔

امریکا کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ سفارت کاروں سے سلوک حقیقی مسئلہ ہے، امریکا کو اس حقیقی مسئلے سے بھی نمٹنا ہوگا، جس کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں پر پابندی کا اطلاق ان کے اہلخانہ تک بڑھا دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

بریفنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی 'ڈو مور' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر ہے۔ایک سوال کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ 2018 کے دوران پاکستان کو بہت کم فنڈز جاری کیے گئے، باقی فنڈز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ فنڈز بھی کم ہی ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ان کے دل کے قریب ہے اور وہ یہ مقصد حاصل کریں گے۔