توہین عدالت کیس ،سپریم کورٹ کا طلال چودھری کومزید گواہوں کو پیش کرنے کا حکم ، سماعت 19جون تک ملتوی

جمعرات مئی 20:22

توہین عدالت کیس ،سپریم کورٹ  کا  طلال چودھری کومزید گواہوں کو پیش کرنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے طلال چودھری توہین عدالت کیس میں مزید گواہوں کو پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے سماعت 19 جون تک ملتوی کر دی۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں طلال چوہدری توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ گواہ اسرار احمد خان عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس سردار طارق نے استفسار کیا کہ کیا آج صرف 2گواہ لے کر آئے ہیں وکیل طلال چوہدری نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم پیش ہونی ہے، چند گواہ پارلیمنٹ میں ترمیمی بل کے باعث پیش نہیں ہوئے۔

گواہ اسرار احمد خان نے بتایا کہ 27جنوری کے جلسے میں اسٹیج پر موجود تھا، قائدین جلسہ گاہ میں 4بجے تشریف لائے، قائدین کی آمد میں تاخیر کے باعث طلال چوہدری نے کئی بار تقاریرکیں،،طلال چوہدری کی تقاریر میں تسلسل نہیں تھا، میری موجودگی میں طلال چوہدری نے عدلیہ مخالف کچھ نہیں کہا، جلسے کے آغاز سے اختتام تک وہاں موجود رہا۔

(جاری ہے)

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حلف میں خدا اور قہر کی بات کی ہے، آپ تیار ہو جائیں۔

گواہ اسرار احمد خان نے بتایا کہ میں نے حلف دیا اور عدالت میری بات نا مناسب سمجھے تو نکال دے۔ جلسے میں طلال چوہدری نے عدلیہ کی توہین نہیں کی، جلسے میں کسی دوسرے شخص نے بھی عدلیہ مخالف بات نہیں کی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کسی نے جلسے میں کچھ کہا یا نہیں اس سے سروکار نہیں، یہاں کسی دوسرے کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی، یہاں کارروائی طلال چوہدری کے خلاف جاری ہے۔

جسٹس سردار طارق نے کہا کہ گواہ سے ماہرانہ رائے نہیں لے رہے، عدالت نے اپنا فیصلہ کرنا ہے، اگر گواہ نے تضحیک محسوس نہیں کی اور فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ طلال چوہدری نے کوئی توہین عدالت کی۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ عدالت میں کھڑے ہیں اور یہ کوئی جلسہ گاہ نہیں، یہ بات کرنے کیلئے سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہے۔

جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ یاد رکھیں آپ حلف پر گواہی دے رہے ہیں، ویڈیو چلا کر ہم بھی دیکھیں گے، طلال چوہدری نے ملک کی بڑی عدالت میں بتوں کی موجودگی کی بات کی۔ وکیل طلال چودری کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ عدالت ایسی کوئی بات گواہ کو یاد نہیں کرا سکتی۔ جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ ٹھیک ہے عدالت سوال نہیں کرتی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ گواہ کے بیان پر فیصلہ نہیں کرنا، عدالت ویڈیو بھی دیکھے گی۔

وکیل نے بتایا کہ اگر ویڈیو پر فیصلہ کرنا ہے تو اب تک کر دیتے، استغاثہ نے سوال کیا کہ کیا طلال چوہدری نے پی سی او کے بتوں کو نکالنے کی بات کی گواہ نے بتایا کہ یہ الفاظ طلال چوہدری نے ٹکڑوں میں کہے، سیاق و سباق سے ہٹ کر چلائے گئے۔ وکیل نے بتایا کہ گواہ نے طلال چوہدری کا نام بیان میں نہیں لیا،جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ وکیل کی بات پر چلنا ہے یا آخرت بھی دیکھنی ہی یہ الفاظ کس کے تھے، اس کا نام بتادیں، استغاثہ وکیل نے بتایا کہ میں دوبارہ سوال کرلیتا ہوں۔

عدالت میں طلال چوہدری کے گواہ سردار احمد خان کا بیان مکمل ہو گیا، مشیر وزیراعظم مصدق ملک بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔مصدق ملک نے بتایا کہ 27جنوری کو جڑانوالہ جلسہ میں موجود تھا، طلال چوہدری بھی جلسے میں موجود تھے، طلال چوہدری نے جلسے میں کئی بار خطاب کیا۔ وکیل استغاثہ نے سوال کیا کہ طلال چوہدری نے پی سی او کے بتوں کی بات کی ۔ مصدق ملک نے بتایا کہ طلال چوہدری کی تقاریر کا کلپ دیکھا ہے، طلال چوہدری نے اس انداز سے بات نہیں کی، طلال چوہدری کے مختلف کلپ جوڑ کر نشر کئے گئے۔

وکیل کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ باقی گواہ لانے کا وقت دے دیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ (آج) جمعہ کو گواہ لے آئیں۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ(آج) مجھے کوئٹہ جانا ہے، طلال چوہدری توہین عدالت کیس کی سماعت 19جون تک ملتوی کر دی گئی۔