حکومت نے میگا ترقیاتی بجٹ پیش کر کے ثابت کیا ہے آزاد خطہ کی تعمیر وترقی اس کی اولین ترجیح ہے‘پیر علی رضا بخاری

مسلم لیگ ن تحریک آزادی کشمیر اور علاقہ کی تعمیر ترقی پر بھرپوریقین رکھتی ہے جس کا عکس اس بجٹ میں موجود ہے

جمعرات مئی 20:37

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) ممبر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی پیر علی رضا بخاری نے کہا ہے کہ حکومت نے میگا ترقیاتی بجٹ پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ آزاد خطہ کی تعمیر وترقی اس کی اولین ترجیح ہے ، مسلم لیگ ن تحریک آزادی کشمیر اور علاقہ کی تعمیر ترقی پر بھرپوریقین رکھتی ہے جس کا عکس اس بجٹ میں موجود ہے جمعرات کے روز بجٹ پر بحث میں میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے ریاستی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی پیش کر کے آزاد خطہ کے اندر تعمیر وترقی کی نئی تاریخ رقم کرنے کی بنیاد رکھی ہے جس پر میں آزاد کشمیر کی عوام اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی جناب قائد پاکستان مسلم لیگ محمد نواز شریف،،، وزیر اعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی ، وفاقی وزیر امور کشمیر وجی بی چوہدری برجیس طاہر ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کا خاص طو ر پر شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے نہ صر ف آزاد کشمیر کی مالیاتی ضروریات کو سمجھا بلکہ ان کو پورا کرنے کے لئے بھرپور فنڈز بھی مہیا کیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آزاد حکومت کے ترقیاتی بجٹ10فیصد سے جہاں بجٹ کے حجم کو بڑھانے کا آئینہ دار ہے وہیں یہ وفاقی اداروں کا آزاد حکومت اور یہاں کے اداروں پر اعتماد کا اظہار بھی ہے کہ ریاستی ادارے ، اتنابڑاترقیاتی بجٹ جس کی تاریخ میں مثال نہ ملتی ہو خرچ کرنے کی بھی اہل ہیں۔ اور انہوں نے یہ کام کر بھی دکھایا 2017-18کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کے وقت پاکستان کی بیوروکریسی دیے جانے والے ترقیاتی بجٹ کا مقررہ وقت کے اندر خرچ کرنے کی شرائط عائد کرتے دکھائی دیتی تھی مگر ایک سال گزرنے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ اسی بیوروکریسی کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں مزید 2.3ارب روپے اضافہ بھی کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی طرز پر این ایف سی سے آزا دکشمیر کے لئے وفاقی محصولات سے مختص کرانا مسلم لیگ ن کی ایک اور بہت بڑی کامیابی ہے جس کے تحت آزاد کشمیر کے لئے وفاقی محصولات سے 3.64فیصد حصے کا تعین کردیا گیا ہے اور آزاد کشمیر کے لئے کم از کم حصہ ، 49ارب ہوگا اگر 3.64فیصد فارمولے کے تحت آزاد کشمیر کا حصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہیہ موجودہ حکومت کا ایسا کارنامہ ہے جس پر آزاد کشمیر کے عوام اور حکومت زبردست خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

وزیر اعظم راجہ محمد فاروق نے آزاد کشمیر کی مالی کسمپرسی ختم کر دی ہے۔ ترقی کے پہیے کو چلادیا ہے اب یہ رکے گا نہیں بلکہ مزید رفتار پکڑے گا۔ اور آزاد خطہ کے اندر ترقی لوگوں کی زندگیاں تبدیل کر دے گی اور اس ترقی کا سب سے بڑا فائدہ معاشرے سے غربت ، انتہا پسندی اور منفی رجحانات کا خاتمہ ہوگا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام آزاد کشمیر کی مثالی ترقی کا مثال دیا کریں گے جس سے تحریک الحاق پاکستان حقیقی معنوں میں مستحکم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی تقریر میں بجٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کی طرف نہیں جانا بلکہ یہ بات ایوان کے ساتھ رکھتا ہوں کہ الیکشن سے قبل اپنے انتخابی منشور میں مسلمم لیگ ن نے صرف وعدے اور دعوے تو ہی نہیں کئے تھے انتخابی مہم کے دوران وفاقی وزراء نے جس طرح آزاد کشمیر کے چپے چپے کا دورہ کیا اور عوام سے وعدے اور اعلانات کئے تو ان وعدوں اور اعلانات پر حقیقت میں عمل کر کے مسلم لیگ ن کی حکومت ہی نے دکھایا ہے۔

ورنہ آزاد کشمیر کے عوام سابق ادوار کے ہوئی اعلانات ابھی تک نہیں بھولے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر یوز چارجز میں اضافہ آزاد کشمیر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے نرخوں میں اضافہ کرانا بھی ہماری حکومت کا سنہری کارنامہ ہے یہ چارجز اب 15پیسے سے بڑھ کر 110پیسے فی یونٹ ہو چکے ہیں جس سے آزاد کشمیر کو سالانہ 25ارب روپے کی آمدن ہوگی اور یہ رقم یقیناآزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کونسل سے آزاد حکومت کو اختیارات کی منتقلی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔ کونسل کے انتظامی و مالیاتی اختیارات آزاد کشمیر حکومت کو منتقل ہونے سے یہاں کی حکومت مزید بااختیار ہوگی ، کونسل کرپشن کے دروازے بند ہوں گے اور کشمیر کونسل کے بجٹ سے مزید 20فیصد آزا دحکومت کو ملیں گے۔ ججز صاحبان کی تقرری سے لیکر ریاستی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اہم اور فوری فیصلوں کے لئے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

پیر علی رضا بخاری نے کہا کہ ہمارے شمالی خطے میں سیاحت کا فروغ بہت آسان ہے سیاح خود مل کر یہاں آتے ہیں سڑکوں کی کنڈیشن بھی بہت اچھی ہے اور مستقبل میں اس کے اندر مزید تنوع لانے کی گنجائش بھی موجود ہے جبکہ موسم سرما جب ہمارے شمالی حصہ موسم کی شدت ، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ’’بلاک ‘‘ ہو جاتا ہے تو پھر ان سیاحوں کو جنوبی حصے میر پور ، بھمبر اورکوٹلی کے علاقوں کی طرف متوجہ کرنا بہتر آسان ہے۔