قومی اسمبلی میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور، بل کی پہلی شق کی حمایت میں 229 اراکین نے ووٹ دیا، 11 اراکین نے اس کی مخالفت کی،بل کے مطابق آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی،آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے،

فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی،بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے،10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا،ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا ، پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا،آئین کے تحت قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیاجائے گا،جہاں سے منظوری کے بعد بل کو ایوان صدرمیں بھجوایا جائے گا

جمعرات مئی 20:46

قومی اسمبلی میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا ترمیمی بل کثرت رائے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں فاٹا کی خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق 31 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرلیا گیا،بل کے مطابق آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی،آئندہ برس فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے، فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی،آئین کے تحت قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیاجائے گا،جہاں سے منظوری کے بعد بل کو ایوان صدرمیں بھجوایا جائے گا،بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے،10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا،ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا ، پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا،بل کی پہلی شق کی حمایت میں 229 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ 11 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔

(جاری ہے)

جمعرات کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی خصوصی طور پر شر کت کی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم بل پیش کیا۔حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما داور کنڈی نے بل کی مخالفت کی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اراکین نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران بل کی کاپیاں بھی پھاڑیں۔۔فاٹا کے خیبر ختونخوا میں انضمام سے متعلق 31 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی۔بل کی پہلی شق کی حمایت میں 229 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ 11 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ایوان میں موجود نہیں اور دونوں جماعتوں کے ارکان نے آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔

جے یو آئی(ف)کے رکن اسمبلی جمال الدین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین سے فاٹا کا نام آج نکل رہا ہے، فاٹا کے عوام سے رائے لئے بغیر نظام مسلط کریں گے تو پریشانی ہوگی۔جے یو آئی(ف)کی ہی رکن شاہدہ اختر نے کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنائیں ان کا حق نہ چھینا جائے۔پشتونخوا میپ کی رکن نسیمہ پانیزئی نے ایوان سے واک آٹ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کی رائے کے خلاف اقدام قبول نہیں۔

قومی اسمبلی میں صورت حال اس وقت دلچسپ ہوئی جب قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ایوان میں حکومتی ارکان اور وزرا کی تعداد کو کم محسوس کیا۔ جس پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خورشید شاہ کو کہا کہ یہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں سب کا بل ہے، ہمیں ڈیڑھ سوسال کی تاریخ بدلنی ہے، آدھا گھنٹہ اورانتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں، ارکان پورے ہوجائیں تو بل پیش کر دیں گے، دوکے سوا باقی تمام وزرا یہاں موجود ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ یہ تاریخی بل ہے پوری قوم کی نظریں اس پرہیں، فاٹا کے لوگوں کو وہی حقوق ملیں گے جو باقی پاکستانیوں کو ملے ہیں ، ہم توایک گھنٹہ انتظار کرنے کو تیار ہیں، وزرا کھڑے ہو جائیں دیکھیں کیا صرف دو کم ہیں۔واضح رہے کہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میں ہیں جب کہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علما اسلام(ف)اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس ترمیمی بل کی مخالفت کررہے ہیں۔

ڈیڑھ سو سال کی تاریخ بدلنی ہے، آدھا گھنٹہ اور انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ہم تو ایک گھنٹہ انتظار کرنے کو تیار ہیں۔۔فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔

بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔