مشرف کا نام وزیراعظم کی مرضی سے ای سی ایل سے نکالا گیا، شاہ محمود قریشی

اگر آئین سے ماوراکسی نے نواز شریف سے مطالبہ کیا تھا تو کوئی کارروائی کیوں نہیں کی، نواز شریف کہتے ہیں کہ دھرنا کسی کے اشارے پر کیا گیا، ہم ایک سال تک گڑگڑاتے رہے کہ صرف چار حلقوں کی تحقیقات کریں، ہم کوئی دھرنا نہیں دیں گے، ہماری بات مان لی جاتی تو کون سا دھرنا ہوتا، نواز شریف عدالت میں اپنا قانونی بیانیہ پیش نہیں کر سکے، وہ چار سال وزیراعظم تھے تو خاموش کیوں رہے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات چیت

جمعرات مئی 20:46

مشرف کا نام وزیراعظم کی مرضی سے ای سی ایل سے نکالا گیا، شاہ محمود قریشی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مشرف کا نام وزیراعظم کی مرضی سے ای سی ایل سے نکالا گیا،اگر آئین سے ماوراکسی نے نواز شریف سے مطالبہ کیا تھا تو انہوں نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی، نواز شریف کہتے ہیں کہ دھرنا کسی کے اشارے پر کیا گیا، ہم ایک سال تک گڑگڑاتے رہے کہ صرف چار حلقوں کی تحقیقات کریں ہم کوئی دھرنا نہیں دیں گے، ہماری بات مان لی جاتی تو کون سا دھرنا ہوتا، نواز شریف عدالت میں اپنا قانونی بیانیہ پیش نہیں کر سکے، وہ چار سال وزیراعظم تھے تو خاموش کیوں رہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ مشرف پر مقدمہ بنانے پر فارغ کیا گیا، اس کی سزا مجھے ملی اور اقتدار سے ایک طرف کیا گیا، مشرف کا مقدمہ انہوں نے درج کیا ہو گا لیکن ان کا نام ای سی ایل سے کس نے نکالا، مشرف کا نام ای سی ایل سے وزارت داخلہ نے نکالا اور وزیراعظمکی اجازت کے بغیر وزارت داخلہ یہ قدم نہیں اٹھا سکتی، وزیراعظم کی مرضی سے ان کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا، نواز شریف نے کہا کہ ایک ایجنسی نے کہا کہ مستعفی ہو جائیں یا رخصت پر چلے جائیں۔

(جاری ہے)

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر آئین سے ماورا کسی نے ان سے مطالبہ کیا تو وزیراعظم نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی، نواز شریف کہتے ہیں کہ دھرنا کسی کے اشارے پر کیا گیا،ہم ایک سال تک گڑگڑاتے رہے کہ آپ صرف چار حلقوں کی تحقیقات کریں ہم کوئی دھرنا نہیں کرنا چاہتے، چوہدری نثار نے کہا تھا کہ ہم چالیس حلقوں کی تحقیقات کرانے کو تیار ہیں، لیکن وہ انکوائری کیوں نہ ہوئی، ہماری بات مان لی جاتی تو کون سا دھرنا ہوتا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لاہور سے جب ہم نکلے تو ہماری طاہر القادری سے ملاقات ہوتی، ہم نے طے کیا کہ آئین سے ماورا کسی کام کا ساتھ نہیں دیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نواز شریف عدالت میں اپنا قانونی بیانیہ پیش نہیں کر سکے، منی ٹریل نہیں دے سکے، قوم کو حقائق جاننا چاہیے، چار سال آپ وزیراعظم تھے، آپ خاموش کیوں رہے۔