میرے خلاف سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے والے ناکام ہونگے ،اسپیکر سندھ اسمبلی

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو مجھ سے منسوب کرنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے،آغا سراج درانی

جمعرات مئی 21:00

میرے خلاف سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے والے ناکام ہونگے ،اسپیکر سندھ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ میرے خلاف سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے والے ناکام ہونگے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو مجھ سے منسوب کرنا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہوں جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر آغا سراج درانی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تیس برس سے میرا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے میرے اور میرے خاندان کے بارے میں سب جانتے ہیں بغیر تحقیق کے میرے خلاف نیب سے منسوب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل کی گئی جس میں بڑی مقدار میں پکڑا گیا سونا دکھایا گیا ہے جو کسی عرب ملک کی ویڈیو ہے اسے مجھ سے منسوب کرنا زیادتی ہے تاہم میں میڈیا کا شکر گزار ہوں کہ جس نے اس ویڈیو کو نشر نہیں کیا اور مجھ سے میرا موقف جانا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میرے میرے گھر سے کوئی سونا برآمد نہیں ہوا متولقہ اداروں کو تحقیقات کرنا چاہئے کہ کس نے یہ ویڈیو مجھ سے منسوب کرکے وائرل کی ہے انہوں نے اس کی مزمت کی اور تمام ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا اسپیکر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر تمام جماعتوں کے ارکان آواز اٹھانی چاہئے ایسی حرکتوں سے میری عزت میں کمی نہیں آئیگی میں میڈیا اور ارکان کا شکر گزار ہوں ایسے عناصر کو سب کو مل کر بے نقاب کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ تھرڈ گریڈ لوگ اس طرح کی اوچھی حرکتیں کررہے ہیں مجھ پر اس طرح کے الزامات ماضی میں بھی لگے ہیں جو غلط ثابت ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب نے بھی اس ویڈیو سے متعلق تردید جاری کردی ہے سابق وزیراعلی سید قائم علی شاہ،، اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن ، سینئر وزیر نثار کھوڑو، فیصل سبزواری، صوبائی وزیر امداد پتافی، میر نادر مگسی اور خیر النسا مغل سمیت دیگر ارکان نے اس عمل کی مزمت کی اور اسپیکر آغا سراج درانی کے موقف کی بھرپور حمائت کی اور معاملہ پر تحریک استحقاق لانے کی تجویز دی بعض ارکان نے معاملہ تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کے سپرد کرنے کا کہا۔

اراکین کا کہنا تھا کہ آپکی کردار کشی کی جارہی ہے بغیر ثبوت کے افواہ ساز فیکٹریاں چلانے والوں کے خلاف کارروائی ہونا چاہئیے