4جون کو مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے منشور کا اعلان کریں گے

انتخابی نشان کے حصول کیلئے درخواست دے دی ہے ،مذہبی اتحا د سے پاکستان کی سیکولرقوتیں اوران کے چاہنے والے پریشان ہیں،لیاقت بلوچ

جمعرات مئی 21:02

4جون کو مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے منشور کا ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) متحدہ مجلس عمل وجماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ 4جون کو ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے منشور کا اعلان کریں گے،انتخابی نشان کے حصول کیلئے ہم نے درخواست دے دی ہے مذہبی اتحا د سے پاکستان کی سیکولرقوتیں اوران کے چاہنے والے بہت زیادہ پریشان ہیں اوران کی پریشانی میں ہردن اضافہ ہوگاکیونکہ قوم اس مملکت میں اسلامی نظام چاہتی ہے،ہم نے پورے ملک میں متحدہ مجلس عمل کی تنظیم کوصوبائی اوراضلاع کی سطح پر قائم کردیا ہے ۔

الیکشن کمیشن میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے درخواست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ہماری منزل اوراصل ہدف اسلام کے نام پررمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں قائم ہونے والی ریاست میں نظام مصطفیٰؐ اورعدل انصاف کے قیام سمیت کرپشن کا خاتمہ ہے ،،ایم ایم اے کسی ایک فرد یا گروہ نہیں بلکہ ہرکرپٹ اوربددیانت کااحتساب اورملک کی لوٹی ہوئی دولت کی قومی خزانے میں واپسی چاہتی ہے ۔

(جاری ہے)

جوجماعتیں ایم ایم اے کا حصہ نہیں ہیں ہم ان کوبھی ساتھ لے کرچلیں گے تاکہ اسلامی وفلاحی ریاست کے خواب کو تعبیرمل سکے ۔لاہورسمیت دیگرشہروں میں ہم نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے جلسوں کی صورت رابطہ عوام مہم کا آغازکردیا ،ماہ رمضان میں افطار کے بڑے پروگرام اور قران کانفرنسز منعقد کریں گے،ملک کے میڈیاسنٹرزسمیت بڑے شہروں میں پروگرامات بھی ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ قومی وصوبائی اسمبلی کے نشستوں کی تقسیم کارکیلئے مشاورت جاری ہے متعلقہ فورمزسے منظوری کے بعد جلد اس کا اعلان کردیا جائے گا ۔انھوں نے کہاکہ ہم غیرجانبدارنگران سیٹ اپ کے حامی ہیں ،،سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لسٹ میں موجود باقی لوگوں کے خلاف شروع نہ ہونا تشویشناک ہے جس سے شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں ہماری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے کہ بلاامتیازسب کا احتساب کیا جائے ۔انھوں نے کہاکہ ہم فلسطین اورکشمیرکے عوام سے مکمل اظہاریکجہتی کرتے ہیں مسلم حکمرانوں کوعالمی استعمارکی غلامی کی بجائے متحد ہوکرامت مسلمہ کومضبو ط کرنا چاہیے اتحاد امت ہی مظلوم مسلمانوں کے مسائل کا حل ہے ۔