خیبرپختونخوا کابینہ کا آخری اجلاس،خیبر پختونخواہ لیبر پالیسی 2018 اور چائلڈ لیبر پالیسی منظوری

جمعرات مئی 21:02

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) خیبرپختونخوا کابابینہ نے لیبر پالیسی 2018 اور خیبر پختونخواہ چائلڈ لیبر پالیسی کی منظوری دیدی۔خیبر پختونخواکی موجودہ صوبائی کابینہ کا آخری اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہواجس کی صدارت وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کی ۔انھوں نے کہا کہ جب پانچ سال پہلے انھوں نے صوبائی حکومت سنبھالی تو صوبے کو دہشتگردی، سرمایہ کاری کے فقدان اور اداروں میں سیاسی مداخلت سمیت متعدد مسائل کا سامنا تھااورانکی صوبائی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش تھے تاہم ان پانچ سالوں کے دوران صوبائی حکومت نے اپنی بہترین کارکر دگی کے ذریعے نہ صرف درپیش چینلجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ صوبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جن کے ثمرات سامنے آرہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا عوام کی خدمت کرنا تھا ہم اسی ایجنڈے کے تحت آگے بڑھتے رہے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ صوبے کے عوام موجودہ صوبائی حکومت سے مطمئن انھوں نے کہا کہ ہم نے پولیس،، تعلیم،، صحت سمیت تمام شعبوں کی اصلاح اور ترقی کیلئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں جو اصلاحات متعارف کرائی ہیں ان پر عمل درآمد کا تسلسل کے ساتھ جاری رہنا صوبے کے مفاد میں ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے بہترین کارکردگی پرتمام انتظامی سیکرٹریز اور سرکاری افسران کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ اعظم خان نے تمام سرکاری محکموں کی جانب سے وزیر اعلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعوے سے کہتے ہیںکہ موجودہ حکومت نے تمام سرکاری معاملات میں کسی قسم کے سیاسی دباو یا مداخلت سے کام نہیں لیا اور سرکاری محکموں کو میرٹ پر فیصلے کرنے کی مکمل آزادی دی۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخواہ لیبر پالیسی 2018 کی منظوری دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ پالیسی بین الااقوامی لیبر پالیسی کے معیار سے ہم آہنگ ہے اور اس پالیسی کے ذریعے نہ صرف صوبے میں مزدوروں اور محنت کش طبقے کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے گا بلکہ صوبے کے مزدوروں کی صحت اور سلامتی کے معیار میں بھی خاطرخواہ بہتری آئی گی ۔صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخواہ چائلڈ لیبر پالیسی کی بھی منظوری دی۔ اس پالیسی کا مقصد صوبے بھر سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔پالیسی کے تحت صوبے میں چائلڈ لیبر کی نشاندہی اور اس کے خاتمے کے لیے اقدامات وضع کیے گئے ہیں۔