اغواء برائے تاوان اور قتل کی مختلف وارداتوں میں طالبہ سمیت تین افراد جاں بحق

جمعرات مئی 21:24

راولپنڈی24مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں اغواء برائے تاوان اور قتل کی مختلف وارداتوں میں ایک طالبہ سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ شہر میں اغواء برائے تاوان اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات سے عوام میں خوف وہراس پھیلنے لگا ہے۔شہریوں نے پولیس انتظامیہ سے ایسے واقعات پر کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کی صبح تھانہ صادق آباد کے علاقہ ہارون چوک میں 17 سالہ کالج طالبہ کے قتل کی لرزہ خیز واردات کا واقعہ رونما ہوا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت ماہا راجہ ولد راجہ طاہر محمود کے نام سے ہوئی ہے۔ ماہا کو کنپٹی پر 30 بور سے فائر مار کر قتل کر دیا گیا اور لاش گھر کی ممٹی پر پھینک دی گئی۔نامعلوم قاتل نے قتل کو خود کشی کا رنگ دینے لیے لڑکی کے دائیں ہاتھ میں پستول پکڑا دیا ۔

(جاری ہے)

لڑکی تین سال سے بسلسلہ تعلیم اپنے ننھیال میں رہائش پذیر تھی ۔۔پولیس نے لاش پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔قبل ازیں تھانہ روات کی حدود میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے نوجوان کو قتل کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 22 سالہ عادل دو روز قبل گھر سے لاپتہ تھا،گزشتہ رات مقتول عادل کی تشدد زدہ لاش بنگیال روڈ سے ملی ہے مقتول عادل کو گردن پیٹ اور جسم کے دیگر حصوں پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے،روات پولیس نے مقتول کے قتل کا مقدمہ بھائی وقاص کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

دریں اثناء راولپنڈی پولیس نے قتل اور اغوا برائے تاوان کے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان آکاش ، موسی اور نعمان نے اپنے محلے دار ذیشان کو صادق آباد کے علاقہ سے تاوان کے لئے اغوا کیا تھا۔ملزمان کو تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے تاوان لیتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد ملزمان نے بتایا کہ انہوں نے ذیشان کو قتل کردیا ہے۔ملزمان کی نشاندہی پر مقتول ذیشان کی لاش برآمدکر لی گئی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ دو روز میں راولپنڈی شہر میں قتل کے تین واقعات پیش آئے ہیں ۔شہریوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اغواء برائے تاوان اور قتل کے واقعات پر قابو پایا جائے۔