رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی چاول کی اسٹوریج کیلئے اسلامی بنیادوں پر قرضہ فراہم کر نے کی اسٹیٹ بینک سے درخواست

جمعرات مئی 19:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) رائس ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن آف پاکستان REAPکے سینیئر وائس چیئرمین رفیق سلیمان نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے نام ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں ان سے FINANCE FACILITY FOR STORAGE OF AGRICULTURE PRODUCE کیلئے در خواست کی گئی ہے کہ چونکہ پاکستان میں زمینوں کی قیمتیں نہایت بڑھ چکی ہیں اسکے علاوہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان میں چاول کی پیداوار بڑھنے کے روشن امکانات ہیں جس کی وجہ سے چاول کی اسٹوریج کیلئے سائلوز (SILOS)اور گودام کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے ۔

اس ضمن میں انہوں نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سے استدعا کی ہے کہ ہمارے ممبران کی اکثریت کارپوریٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہے لہذا اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اسلامی بینکوں کو چاول کی اسٹوریج کیلئے قرضہ فراہم کرنے کی اجازت دے دے تو چاول کی بر آمدات کے شعبے میں بہتری آنے کے امکانات ہیں اور امید ہے کہ ہم مزید بہتر معیار کا پاکستانی چاول بر آمد کر سکیں گے اور ملک کیلئے مزید زر مبادلہ حاصل کر سکیں گے ۔

(جاری ہے)

مزید بر آں ہمارے کاشتکاروں کے پاس چاول کی جدید مشینری نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اچھے معیار کے چاول کی فراہمی میں مشکلات ہیں ۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ چاول کی اسٹوریج کیلئی اور ڈرائر کاشتکاروں کو طویل مدت (Long Term)کے سود سے پاک قرض کی بنیاد پر فراہم کردئیے جائیں تو ہمیں امید ہے کہ ہمارے ملک سے چاول کی بر آمدات میں کم از کم پانچ سو ملین ڈالر کا اضافی قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوسکتا ہے ۔

اس ضمن میں REAPکے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد نے چیئرمین REAPکی سربراہی میں گزشتہ ماہ گورنر اسٹیٹ بینک سے ملاقات کی تھی جس میں مندر جہ بالا موضوع بھی زیر بحث آیا تھا اور گورنر اسٹیٹ بینک نے REAPکے وفد کو یقین دہانی کرائی تھی کہ جلد ہی اسلامی بینکوں کو بھی ہدایات جاری کر دی جائیں گی کہ و ہ بھی چاول کی اسٹوریج کیلئے SILOSاور گودام کی خریداری کیلئے اسلامی بنیادوں پر قرضہ فراہم کر سکیں گے ۔

رفیق سلیمان نے چاول کے اعداد و شمار پر تبصرہ کر تے ہوئے بتایا کہ چاول کی بر آمدات حوصلہ افزاء ہیں اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اور ہمارے ممبران کی شبانہ روز انتھک محنت کی وجہ سے ہمیں قوی امید ہے کہ رواں مالی سال (2017-18)میں چاول کی بر آمدات کا ہدف جو کہ 2ارب ڈالر رکھا گیا تھا باآسانی حاصل ہوجائے گا ۔

متعلقہ عنوان :