پاکستان نفرت کی سیاست اور انتخابات میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ وزیر اعظم کا فاٹا بل کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پر خوشی کا اظہار

پاکستان میں اخلاق سے ہٹ کر اور بدتمیزی کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘ فاٹا کے عوام کو وہی سہولیات دینا چاہتے ہیں جو ملک کے باقی عوام کو حاصل ہیں‘ ہمارا مقصد قبائلی علاقوں کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے اور یہی ہمارا رہنما اصول رہے گا ،ْبل کی منظوری میں ساتھ دینے پر اپوزیشن کے شکر گزار ہوں ،ْ31مئی تک حکومت قائم رہے گی ،ْ انشاء اللہ آئین کے تحت 60 دن بعد الیکشن کے ذریعے فیصلہ ہوگا ،ْاگر نعرے بازی میں پڑیں گے تو اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ،ْہمیں قومی اتفاق رائے کیلئے کام کرنے کے اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،ْارسا میں 1991ء کے پانی کے تقسیم کے معاہدے کے حوالے سے تشریح پر اختلافات ہیں ،ْنظرثانی کا کوئی میکنزم ہوا تو معاملے کو دیکھ لیں گے بصورت دیگر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرکے معاملے کو حل کیا جائیگا ،ْ شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبل میں اظہار خیال

جمعرات مئی 19:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں فاٹا بل کے حوالے سے قومی اتفاق رائے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان نفرت کی سیاست اور انتخابات میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ پاکستان میں اخلاق سے ہٹ کر اور بدتمیزی کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘ فاٹا کے عوام کو وہی سہولیات دینا چاہتے ہیں جو ملک کے باقی عوام کو حاصل ہیں‘ ہمارا مقصد قبائلی علاقوں کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے اور یہی ہمارا رہنما اصول رہے گا ،ْبل کی منظوری میں ساتھ دینے پر اپوزیشن کے شکر گزار ہوں ،ْ31مئی تک حکومت قائم رہے گی ،ْ انشاء اللہ آئین کے تحت 60 دن بعد الیکشن کے ذریعے فیصلہ ہوگا ،ْاگر نعرے بازی میں پڑیں گے تو اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ،ْہمیں قومی اتفاق رائے کے لئے کام کرنے کے اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،ْارسا میں 1991ء کے پانی کے تقسیم کے معاہدے کے حوالے سے تشریح پر اختلافات ہیں ،ْنظرثانی کا کوئی میکنزم ہوا تو معاملے کو دیکھ لیں گے بصورت دیگر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرکے معاملے کو حل کیا جائیگا۔

(جاری ہے)

جمعرات کو قومی اسمبلی میں فاٹا انضمام بل کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی نے آج ایک تاریخی بل پاس کیا ہے‘ ایک تاریخی بل پاس کیا ہے‘ اس کے نتائج پاکستان پر انشاء اللہ بڑے مثبت ہوں گے ،ْاپوزیشن کا شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے بل کی منظوری میں ہمارا ساتھ دیا۔

یہ کوشش پچھلے چار سال سے جاری تھی اور اس حوالے سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے دو اڑھائی سال کام کیا اور رپورٹ مرتب کی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر فاٹا کی کمیٹی قائم کی گئی جس میں چیف آف آرمی سٹاف‘ صوبائی وزراء اعلیٰ ‘ گورنر‘ وفاقی وزراء اور دیگر شامل تھے۔ اس کمیٹی نے رپورٹ کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں جس کو بل کی شکل دی گئی‘ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اس بل پر اتفاق رائے پیدا کیا اور آج بل منظور ہوا۔

خاص طور پر سید خورشید شاہ شاہ محمود قریشی اور فاروق ستار سمیت دیگر کا شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے بل کی منظوری میں نہ صرف ہماری مدد کی بلکہ اپنی رائے بھی دی حالانکہ بہت سے پیچیدہ مسائل تھے مگر خوش اسلوبی سے معاملات طے پا گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں نے مل کر اتفاق رائے کے ذریعے بل منظور کیا۔ اس ایشو کے حوالے سے جس قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی وہ قومی اتفاق رائے پیدا ہوا۔

عمران خان کی تقریر کے حوالے سے وزیراعظم نے ان کا نام لئے بغیر کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ ابھی جو تقریر ہوئی اس میں ایسی باتوں کا ذکر کیا گیا جس کی آج ضرورت نہیں تھی ،ْ آج کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے تھی جس سے کوئی نفرت کا پہلو سامنے آئے۔ یہ سب باتیں پاکستان کی عوام جانتے ہیں اور اس ایوان میں کئی مرتبہ ایسی باتیں زیر بحث آئی ہیں کہ دھرنا کیوں ہوا‘ کس نے کیا‘ کیسے کیا اور اس کا قانونی پہلو کیا تھا۔

الیکشن کا کوئی تنازعہ ہو اس کے حل کے لئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی جاتی ہے اور یہ عمل اس طرح مکمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان باتوں میں نہیں جانا چاہتا ،ْ پانامہ میں کیا ہوا اور کسی کو منی لانڈرر کہنا یہ باتیں اخلاق کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔ خاص طور پر اس دن جب اس ایوان میں یکجہتی کا مظاہرہ ہو رہا ہے اور ایک بڑا مشکل ایشو حل ہوا ہو تو اس موقع پر ایک متنازعہ بات لاکر کسی کے جذبات مجروح کرنا درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ پاکستان کے عوام جولائی کے الیکشن میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ اس بل کی وجہ سے الیکشن ملتوی کرنے کی کوئی کوشش نہ کر پائے۔ اس میں تمام جماعتوں نے تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ بل کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایسے تمام آنے والے مواقع اور وسائل کا بل میں خیال رکھا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعے فاٹا میں انتخابات کے حوالے سے بھی اتفاق رائے پیدا ہوا کہ وہ کب ہوں گے۔ سینٹ‘ قومی اسمبلی کی نشستوں سمیت تمام امور کا احاطہ کیا گیا ہے ،ْ سب سے بڑھ کر اس بات کا خیال رکھا گیا ‘ اس بل کو الیکشن کی تاخیر کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ پاکستان انتخابات میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ 31 تاریخ تک حکومت قائم رہے گی اور انشاء اللہ آئین کے تحت 60 دن بعد الیکشن کے ذریعے فیصلہ ہوگا۔

یہی ہمارا پاکستان کے عوام سے وعدہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بل کی منظوری انتہا نہیں بلکہ ایک ابتداء ہے۔ ہم نے فاٹا کے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے اور وہ اعتماد صرف نعروں اور باتوں سے حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد بل ایوان بالا میں پاس ہونا ہے اور اس کے بعد صدر مملکت اس کی منظوری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ فاٹا کے اندر ترقیاتی عمل کی جو کمی ہے اس کو پورا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جو کمٹمنٹ دی گئی ہیں وہ یہی ہیں کہ فاٹا کے اندر دس سال تک ہر سال 100 ارب روپے خرچ کئے جائیں۔ اس حوالے سے اس ایوان کی کمٹمنٹ چاہیے کہ ہم فاٹا کے عوام کو وہی سہولتیں‘ سکول ‘ وہی روشنی ‘ وہی سڑکیں ‘ وہی ہسپتال دینے ہیں‘ وہی نظام دینا ہے جو پاکستان کے دیگر لوگوں کو میسر ہیں۔ اس میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے‘ اس لئے یہ بڑا ضروری ہے کہ اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ یہ ایوان اس حوالے سے اپنی کمٹمنٹ کا اظہار کرے ،ْیہ ہمارا رہنما اصول ہونا چاہیے کہ ہم فاٹا کے عوام کا اعتماد حاصل کریں گے جس سے ان کو محسوس ہوگا کہ وہ بھی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں آج اس بات کا مظاہرہ ہوا ہے کہ قومی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں بہت سے پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے سب کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اتفاق رائے سے حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پانچ سال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو کہی قسم کے تنازعات ہمارے سامنے آئے اور اس قسم کی باتیں سامنے آئیں اور اس قسم کا ماحول پیدا کیا گیا۔

پاکستان میں نفرت کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے نہ ہی یہ پاکستان کے لئے خوش آئند ہے اور نہ ہی بدتمیزی کی سیاست کی پاکستان میں جگہ ہے۔ پاکستان میں اخلاق سے ہٹ کر بھی سیاست میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس ایوان کے ارکان پر لازم ہے جو کل یہاں بیٹھے ہوں گے چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے‘ ان کا طرز عمل ایسا ہونا چاہیے کہ جس کی لوگ تقلید کر سکیں۔

ہم اگر نعرے بازی میں پڑیں گے تو اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں قومی اتفاق رائے کے لئے کام کرنے کے اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جس کا اظہار آج قومی اسمبلی میں ہوا ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم نے صاحبزادہ طارق اللہ اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ میں ٹیکس کی چھوٹ کی شرح کے حوالے سے معاملہ کل صاحبزادہ طارق اللہ نے اٹھایا تھا اور اس پر فیصلہ ہوا تھا کہ ٹیکس کی چھوٹ پانچ سال تک رہے گی اس میں کوئی دورائے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے ایوان میں سندھ میں پانی کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ رواں سال پانی کا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے۔ رواں سال دریائے سندھ میں پانی کا بہائو ساٹھ فیصد کم ہوا ہے۔ تربیلا‘ منگلا اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کی کمی ہے۔ ہمیں امید ہے اور اندازہ بھی ہے کہ جون کے آخری ہفتے میں انڈس میں پانی کا بہائو گزشتہ سال کی سطح پر آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی تکنیکی حوالے سے اور ابھرتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اجلاس کرتی ہے۔ ارسا میں 1991ء کے پانی کے تقسیم کے معاہدے کے حوالے سے تشریح پر اختلافات ہیں۔ ارسا کے پانچ ممبران ہیں جن میں سے چار صوبائی اسمبلی اور ایک وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس وقت پانی کی تقسیم ووٹ کے ذریعے کی گئی ہے اس کے باوجود بھی اگر کوئی شکایت ہو تو یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جایا جاسکتا ہے۔

اگر سندھ مشترکہ مفادات کونسل میں جانا چاہتا ہے تو آئندہ چند روز میں کونسل کا اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے تاکہ کسی صوبے کو اس حوالے سے کوئی شکایت نہ ہو۔ سید خورشید احمد شاہ کی طرف سے سندھ میں پانی کی کمی کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کے جواب وزیراعظم نے کہا کہ ارسا میں اگر نظرثانی کا کوئی میکنزم ہوا تو معاملے کو دیکھ لیں گے بصورت دیگر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرکے اس معاملے کو حل کیا جائیگا۔