فاٹا کا بل قومی اسمبلی سے پاس ہوگیا ہے ،ْ (آج) جمعہ کو سینٹ سے منظور ہو جانے کے بعد قانون کا حصہ بن جائے گا ،ْسرتاج عزیز

فاٹا کو آئندہ 10 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے سالانہ بنیادوں پر دیئے جائیں گے ،ْ میڈیا سے گفتگو فاٹا اصلاحات کا قبائلی علاقہ جات کے تمام شعبہ ہائے زندگی کو فائدہ ہو گا ،ْوفاقی وزیر مشاہد اللہ خان کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر گفتگو

جمعرات مئی 19:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن و فاٹا اصلاحات کے حوالہ سے قائمہ کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم ڈیڑھ سال قبل ہو جانا چاہئے تھا ،ْفاٹا کا بل قومی اسمبلی سے پاس ہوگیا ہے ،ْ (آج) جمعہ کو سینٹ سے منظور ہو جانے کے بعد قانون کا حصہ بن جائے گا ،ْفاٹا کو آئندہ 10 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے سالانہ بنیادوں پر دیئے جائیں گے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے فاٹا اصلاحات کے حوالہ سے مجھے ذمہ داریاں دیں، کمیٹی نے فاٹا کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، وہاں پر عوام اور سیاسی رہنمائوں سے مشاورت کی اور اس کے بعد فاٹا انضمام کے حوالہ سے فیصلہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے فاٹا کو 10 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100 ارب روپے سالانہ دینے کی تجویز دی تھی جو منظور کر لی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے بعد فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں بھی نشستیں مل جائیں گی جبکہ فاٹا سے ایف سی آر کا خاتمہ فاٹا کے عوام کیلئے ایک نیک شگون ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ڈیڑھ سال قبل ضم ہو جانا چاہئے تھا تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے مخالفت کی اور آج وہ اس مؤقف پر قائم رہے، آج ان کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی داوڑ کنڈی نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد الله خان نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کا قبائلی علاقہ جات کے تمام شعبہ ہائے زندگی کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے اپنے محصولات ہوں گے، ترقیاتی بجٹ میں وفاق اور صوبے بھی حصہ دیں گے اور وہاں کے نمائندے اپنے علاقہ کیلئے قانون سازی کر سکیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اقدام ہے اس تاریخی فیصلہ اور اصلاحات کیلئے بھی سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اصلاحاتی کمیٹی بنائی جس میں تمام فریقین کو اعتماد میں لیا اور آج اس کے نتیجہ میں ایک تاریخی بل پاس ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے آتے ہی سنجیدہ کوششوں کو آغاز کیا، پہلی مرتبہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کراچی میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا اور کراچی آپریشن کی منظوری دی اور آج کراچی میں امن ہے اور جو لوگ دن کی روشنی میں باہر نہیں نکلتے تھے آج وہ رات کی تاریکی میں بھی آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں اور کراچی کی روشنیاں بحال ہو گئی ہیں۔