راشد لنگڑیال کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے،سانحہ ماڈل ٹائون کی شہیدہ کی بیٹی کا چیف جسٹس کے نام خط

سانحہ میں ملوث اہم کرداروں کو بیرون ملک بھجوایا گیا، مزید کو جانے سے روکا جائے ،انصاف متاثر ہوگا‘خط کا متن

جمعرات مئی 19:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سانحہ ماڈل ٹائون کی شہیدہ تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے چیف جسٹس کے نام خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے 8 اپریل 2018 ء کے دن ملاقات کے دوران کہا تھا کہ آپ جب بھی میری ضرورت محسوس کریں آپ میری بیٹی ہیں میرے سے رابطہ کریں، بسمہ امجد نے اپنے خط میں چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری سب سے بڑی ضرورت میری والدہ کا انصاف ہے، ملزمان کو کٹہرے میں لانے کیلئے ہم چار سال سے قانونی جدوجہد کررہے ہیں، 24 مئی 2018ء کے دن ایک قومی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے ایک اہم کردار اس وقت کے کمشنر لاہور راشد لنگڑیال کو اکنامک وزیر بنا کر واشنگٹن ڈی سی تعینات کیا جارہا ہے۔

خبر میں واضح طور پر لکھا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی سماعت میں تیزی آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے راشد لنگڑیال کو بیرون ملک بھجوانے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

بسمہ امجد نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے اس اہم کردار کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے، اس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ، ڈی آئی جی رانا عبدالجبار، ایس پی ناصر شیرازی کو بیرون ملک بھجوایا جا چکا ہے، راشد لنگڑیال سانحہ ماڈل ٹائون کا نامزد ملزم ہے ۔

سانحہ سے قبل اہم میٹنگز میں شریک رہا۔اس کے ساتھ ساتھ شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثاء کی طرف سے جو استغاثہ دائر کیا گیا ہے اس میں راشد لنگڑیال بطور ملزم شامل ہیں اور نواز شریف ،،شہباز شریف سمیت جن12 ملزمان کی طلبی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن زیر سماعت ہے اس میں راشد لنگڑیال بھی شامل ہیں، اس دوران راشدلنگڑیال کا بطور اکنامک منسٹر بیرون ملک جانے سے انصاف کا عمل متاثر ہو گا،آپ سے درخواست ہے کہ راشدلنگڑیال کی ممکنہ تقرری کا بھی نوٹس لیا جائے ،مزید کو بھاگنے سے روکا جائے اور سانحہ ماڈل ٹائون کے مکمل انصاف تک راشد لنگڑیال کو بیرون ملک نہ جانے دیا جائے۔

اگر یہ بیرون ملک چلے گئے تو پھر انہیں واپس لانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بسمہ امجد نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں کردار ادا کرنے والے تمام افسران کو اہم عہدوں اور ترقیوںسے نوازا گیا، کسی ایک اہلکار کو معمولی سی سزا بھی نہیں دی گئی یہاں تک کہ ان کیخلاف کوئی محکمانہ رسمی کارروائی بھی عمل میں نہیں آنے دی گئی۔