جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخالفت ،ْقومی اسمبلی نے فاٹا انضمام سے متعلق 31ویں آئینی ترمیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا

بل کے حق میں مجموعی طور پر 229 ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ،ْ مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیا ہے ،ْسپیکر کا اعلان فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا ،ْ منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی شق وار منظوری کے بعد ترمیمی بل کی حتمی منظوری کا عمل شروع ہوا اور ارکان اسمبلی نے فرداً فرداً مسودے پر دستخط کئے فاٹا کے انضمام کے بل کے نتائج مثبت ہوں گے ،ْ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مذکورہ بل کی وجہ سے پاکستان میں عام انتخابات تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے ،ْ یہ وقت پر ہی منعقد کیے جائیں گے ،ْ خطاب میرا ضمیر واضح ہے میں لوگوں کے مفاد میں کھڑا ہوا ،ْعمران خان کی نوازشریف پر تنقید ،ْ لیگی ارکان کا شور شرابہ ،ْ عمران خان مخالف نعرے حکومتی ارکان اور پی ٹی آئی ارکان کی ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی ،ْ سپیکر قومی اسمبلی روکتے رہے فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہونا پاکستان کیلئے بہت بڑا دن ہے ،ْسید نوید قمر

جمعرات مئی 21:34

جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخالفت ،ْقومی اسمبلی نے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے جے یو آئی (ایف)اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کی مخالفت اور بائیکاٹ کے باوجود وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے ((فاٹا)) کا خیبرپختونخوا میں انضام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کرلیا ،ْ بل کے تحت فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کریں گے ،ْصوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بل کے تحت فاٹا کو 16 عام نشستیں ‘ خواتین کی چارمخصوص نشستیں اور ایک غیر مسلم نشست فراہم کی گئی ہے ،ْفاٹا کی قومی اسمبلی اور سینٹ کی موجودہ نشستیں قومی اسمبلی کی تحلیل تک برقرار رہیں گی ،ْآئین کے تحت قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیاجائیگا، جہاں سے منظوری کے بعد بل کو ایوان صدرمیں بھجوایا جائے گا، صدر مملکت کے دستخط کے بعد بل آئین کا حصہ بن جائیگا۔

(جاری ہے)

جمعرات کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق 31 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے بل کو زیر غور لانے کی تحریک کی منظوری دی ارکان اسمبلی کی جانب سے بل پر بحث کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا ،ْجے یو آئی (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا تاہم سپیکر نے یکے بعد دیگرے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کرنے سے قبل ہال کے داخلی راستوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔

اس طرح بل کی مختلف شقوں کے حق اور مخالفت میں ارکان کو باری باری کھڑا کرکے رائے حاصل کی۔ بل کی بعض شقوں کے حق میں 229 ‘ 230 اور 231 ارکان نے جبکہ بل کی مخالفت میں 11 ‘ 3 اور ایک ارکان نے یکے بعد دیگرے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر قانون نے تیسری خاندگی کے طور پر جب بل کو منظور کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی تو سپیکر کے حکم پر ایوان کے داخلی راستے بند کردیئے گئے اور سپیکر نے ارکان کو ہدایت کی کہ بل اوپن ڈویژن کے ذریعے منظور کیا جائیگا جس کے لئے بل کے حق میں رائے دینے والے ارکان ان کے دائیں جانب موجود لابی میں جائیں گے اور بل کی مخالفت میں رائے کا اظہار کرنے والے ارکان ان کی بائیں جانب لابی میں جائیں گے۔

اس کے بعد سپیکر کے کہنے پر تمام ارکان باری باری اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے سپیکر کے دائیں جانب اور بائیں جانب قائم لابیوں میں گئے۔ رائے شماری کا عمل مکمل ہونے پر سپیکر نے اعلان کیا کہ بل کے حق میں مجموعی طور پر 229 ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ آیا ہے ،ْاس طرح قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل منظور کرلیا۔

فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم 2018ء کے نام سے موسوم بل کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 1 ‘ آرٹیکل51‘ آرٹیکل 59‘ آرٹیکل 62‘ آرٹیکل 106‘ آرٹیکل 155 ‘ آرٹیکل 246 اور آرٹیکل 247 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 51 میں کی گئی ترمیم کے تحت قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 342 کی بجائے 326 ہو جائے گی۔ بل کے تحت فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بل کے تحت فاٹا کو 16 عام نشستیں ‘ خواتین کی چار مخصوص نشستیں اور ایک غیر مسلم نشست فراہم کی گئی ہے مگر شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ مذکورہ بالا نشستوں پر 2018ء کے عام انتخابات کے بعد ایک سال کے اندر منعقد کئے جائیں گے جبکہ فاٹا کی قومی اسمبلی اور سینٹ کی موجودہ نشستیں قومی اسمبلی کی تحلیل تک برقرار رہیں گی جس کے بعد یہ شق حذف تصور کی جائے گی۔

آئین کے تحت قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیاجائیگا، جہاں سے منظوری کے بعد بل کو ایوان صدرمیں بھجوایا جائے گا، صدر مملکت کے دستخط کے بعد بل آئین کا حصہ بن جائے گا۔ واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے 2017ء میں اپنے ابتدائی اجلاس میں فاٹا کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی منظوری دی تھی اور دستور 30ویں ترمیم بل 2017ء قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جو کہ اب تک مجلس قائمہ میں زیر التواء ہے۔

اس بل کو اب واپس لے لیا جائیگا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنمائوں اور قبائلی علاقہ جات کے نمائندگان کے تحت مشاورت سے اس پر دوبارہ غور و خوض کے لئے کابینہ نے 22مئی 2017ء کو منعقد ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو متعلقہ صوبے کے ساتھ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے لئے جامع بل تیار کیا جائے تاکہ قبائلی علاقہ جات کے عوام کو قومی دھارے میں لایا جاسکے۔

اس کے تحت دستور 31ویں ترمیم بل 2018ء تیار کیا گیا۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہم کہتے ہیں فاٹا کے عوام کی رائے کو عزت دو ،ْ اس بل میں قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ یہ صرف فاٹا نہیں بلکہ پاٹا پر بھی لاگو ہو رہا ہے۔ ہلال الرحمان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انضمام نہیں اصلاحات مانگی تھیں ،ْآج اصلاحات پیچھے چلی گئی ہیں اور انضمام پر سب کا زور ہے۔

عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لئے صوبے کی بات کی ہے۔ انہیں فاٹا کو 100 دن کے پیکج میں شامل کرنا چاہیے جس کی ایک الگ حیثیت موجود ہے۔ فاٹا کے زمینی حقائق بہت مختلف ہیں۔ فاٹا کو الگ صوبہ یا تشخص دیا جائے۔ تحریک انصاف کے داور کنڈی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کو انضمام کی بجائے نیا صوبہ بنایا جائے۔ بل کی شاہدہ اختر علی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالقہار ودان نے بھی مخالفت کی ۔

اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی نے جو بل پاس کیا ہے اس کے نتائج پاکستان کیلئے بہت مثبت ہوں گے اور میں اپوزیشن کا مشکور ہوں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔انہوںنے کہاکہ فاٹا کے حوالے سے ڈھائی سال پہلے ایک کمیٹی بنی جس کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور ایک بل بنا، جو آج سب کے سامنے آیا ہے، میں اس بل پر خورشید شاہ،، فاروق ستار کا مشکور ہوں جنہوں نے بل پر رائے دی۔

انہوں نے کہا کہ آج اس ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن نشستوں نے مل کر اس بل کو پاس کیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ جو تقریر ہوئی اس میں ایسی باتوں کا ذکر کیا گیا جس کی آج ضرورت نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ آج ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، جس سے تنازعات کا پہلو سامنے آئے۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کسی کو منی لانڈرر کہنا اخلاقی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے، خاص طور پر اس دن جب ایوان نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس دن ایسی متنازع بات کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مذکورہ بل کی وجہ سے پاکستان میں عام انتخابات تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے، اور یہ وقت پر ہی منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس بل میں بلدیاتی،، صوبائی انتخابات کی بھی بات رکھی گئی، اس کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے متعلق بھی بات موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ اس بل کا مقصد فاٹا میں جو ترقیاتی کاموں کی کمی ہے، اسے دور کیا جائے اور اس بل میں یہ بات رکھی گئی تھی کہ ہم نے فاٹا کے لوگوں کو وہی سب چیزیں دینی ہیں جو پاکستان کے دیگر لوگوں کو میسر ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آج ایوان نے یہ ثابت کیا کہ قومی معاملات پر یکجہتی ہوسکتی ہے لہٰذا جو بھی قومی معاملات ہیں انہیں مل کر ہی حل کرنا چاہیے۔۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی بہت بڑی جیت ہوئی ہے۔۔عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جب پاکستانی قانون کا اطلاق ہوگا تو اس میں مشکلات آئیں گی، تاہم فاٹا بل منظور کرکے قبائلی عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانا قابلِ قبول تجویز نہیں ہے، کیونکہ یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ فوری طور پر فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کروا کر ان کو اختیارات دے کر وہاں ترقی کی جائے لیکن یہ آسان نہیں ہوگا، اس کی مخالفت کی جائیگی۔۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان ایک بہت زبردست قدم لے رہا ہے لیکن اس میں مشکلات آئیں گی، جس سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے ملک کے وزیرِاعظم سے منی لانڈرنگ کے کیس میں یہ سوال کرنا چاہیے تھا کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا اور ملک سے باہر کیسے گیا۔انہوںنے کہا کہ میرا ضمیر واضح ہے کہ میں لوگوں کے مفاد میں کھڑا ہوا، لیکن میں اراکینِ اسمبلی سے پوچھتا ہوں کہ جو منی لانڈر کی حمایت کر رہے تھے کیا ان کا ضمیر ٹھیک تھا‘۔۔عمران خان نے کہاکہ یہاں ایک رکن اسمبلی نے بیٹھ کر مجھے کہا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے ،ْکوئی حیا ہوتی ہے لیکن آج وہ رکنِ اسمبلی یہاں موجود ہی نہیں ہے۔

انہوںنے کہاکہ مجھے فخر ہے کہ ہم نے جدو جہد کی جس میں ہم کامیاب ہوئے اور ایک بدعنوان وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا گیا۔۔عمران خان کی تقریر کے دور ان حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اس دور ان سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز وزیر ریلوے سعد رفیق کو ارکان کو نعرے بازی سے روکنے کی ہدایت کرتے رہے تاہم ارکان کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے حکومتی ارکان کو بھی جواب دیا اس دور ان عمران خان نے اپنے اراکین کو روکتے ہوئے حکومتی ارکان کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ آپ میری بات سننے کا حوصلہ رکھیں عمران خان کی تقریر ختم ہوتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے چلے گئے ۔

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ آج فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہونا پاکستان کے لیے بہت بڑا دن ہے اور خوشی ہے کہ یہ بل بھاری اکثریت سے منظور ہوا ہے۔۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے فاٹا بل کی منظوری کو پاکستان کی تاریخ میں اہم سیاسی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی نے کالونی کے نظام کو فاٹا سے ختم کر دیا۔انہوںنے کہاکہ آج کا بل منظور ہونا پاکستان کیلئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔