خواتین کی شکل میں آبادی کے ایک بڑے حصے کی معاشی سرگرمیوں سے دوری ملک کو بڑے بحران کی طرف لے جا رہی ہے ‘عائشہ غوث پاشا

حکومت پنجاب بحیثیت ریاست خواتین کو تعلیم ، ترقی اور تحفظ کے یکساں موقع فراہم کر کے اپنا کرداربخوبی ادا کر رہی ہے‘صوبائی وزیر خزانہ

جمعرات مئی 21:34

خواتین کی شکل میں آبادی کے ایک بڑے حصے کی معاشی سرگرمیوں سے دوری ملک ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) حکومت پنجاب کل آبادی کے خواتین پر مشتمل 48فیصد کی قومی معیشت میںشمولیت کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے،وویمن ایمپلائمنٹ فیصیلٹی سینٹر--" جاب آسان"اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں بچیوں کو موزوں جاب کی تلاش، سی وی کی تیاری اورابتدائی ٹریننگ سے لے کر کام کی جگہ پر ان کے حقوق اور پریشانی کی صورت میں دفاعی رد عمل تک ہر طرح کی تربیت دی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پنجاب کمیشن برائے حقوق نسواں کے زیر اہتمام جیف ہائیٹس گلبرگ میں پہلے آسان جاب سہولت سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کے دوران کیا ۔ صوبائی وزیر نے کہا خواتین کی شکل میں آبادی کے ایک بڑے حصے کی معاشی سرگرمیوں سے دوری ملک کو بڑے بحران کی طرف لے جا رہی ہے ۔

(جاری ہے)

جس سے بچائو کا واحد ذریعہ خواتین کا فارمل سیکٹر سے نان فارمل سیکٹر میں ارتکاز اور اپنی قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہے جب تک خواتین مرد وں کے شانہ بشانہ ملکی معیشت میں ا پنا کردار ادا نہیں کریں گی پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پنجاب بحیثیت ریاست خواتین کو تعلیم ، ترقی اور تحفظ کے یکساں موقع فراہم کر کے اپنا کرداربخوبی ادا کر رہی ہے اب یہ خواتین پر منحصر ہے کہ وہ ان مواقع سے کس طرح فائدہ اُٹھاتی ہیں۔۔ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پنجاب کمیشن برائے حقوق نسواں کی منتظم اعلی فوزیہ وقار اور ان کی ٹیم کو پہلے وویمن ایمپلائمنٹ سہولت سینٹر کے قیام پر مبارکباد پیش کی اور اُمید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں کمیشن پنجاب کے تمام اضلاع میں ایسے سینٹر کے قیام کو یقینی بنائے گا ۔

اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ وقار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں نمائندگی صرف 24فیصد جبکہ پنجاب میں 28فیصد ہے ۔ تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بڑی تعداد ڈگری حاصلکرنے کے بعد گھر سے باہر کام کرنے سے گریز کرتی ہیں جس کی بڑی وجہ اعتماد کی کمی اور موزوں ملازمت کے انتخاب کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ آسان جاب سہولت سینٹر زخواتین کے ایسے ہی مسائل کو موضوع بنا کر آن لائن پورٹل مہیا کریں گے جہاں بچیاں کو اپنی تعلیم اور تجربہ کے مطابق جاب سے متعلق تمام معلومات مہیا کی جائیں گی۔

بچیوں کے پروفائلز کو بہتر بنانے کے لیے اُنھیں مفت خصوصی تر بیت ، مشاورت اور رہنمائی مہیا کی جائے گی۔ تقریب کے اختتام پر فوزیہ وقار نے محکمہ تعلقات عامہ میں میڈیا بریفنگ بھی دی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت پنجاب کے تعاون سے مختلف اضلاع میںبننے والے آسان جاب مراکز جن کا آج لاہور سے آغاز ہو رہا ہے خواتین کو کام کی جگہوں پر ان کے حقوق اور ہراسگی سے متعلق قوانین سے مکمل آگاہی کے علاوہ بوقت ضرورت تکنیکی معاونت بھی فراہم کریں گے۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں خواتین فوری طور پر فری ہیلپ لائن 1043پر کال کر کے مشاورت و رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔ آن لائن جاب پورٹل پنجاب کمیشن برائے حقوق نسواں کی ویب سائیٹ www.pcsw.gov.pkپر دستیاب ہو گی جہاں بچیاں اپنے کوائف درج کر کے موزوں جاب سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گی۔ اُنھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی مرحلہ پر تقریباً تین ہزار خواتین "جاب آسان " کی سہولت سے مستفید ہو سکیں گی۔