حیدرآباد پریس کلب کے سامنے مختلف تنظیموں اور افراد کا اپنے مطالبات کی حمایت میں الگ الگ مظاہرے

جمعرات مئی 21:36

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) حیدرآباد پریس کلب کے سامنے مختلف تنظیموں اور افراد نے اپنے مطالبات کی حمایت میں الگ الگ مظاہرے کئے۔یو تھ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام سندھ میں جبر ی طو ر پر لا پتہ کئے گئے افراد کی با زیا بی کیلئے حیدرآباد پر یس کلب کے سامنے بھو ک ہڑ تا لی کیمپ پر جا می چانڈ یو ،تا ج جو یو ، ڈاکٹر اشو تھاما،امداد چانڈ یو ،حمید سندھی ،علی پلھ،پنھل ساریو ،آکا ش ملاح ،فاروق سومر و ،مہیش کمار ،سہیل بھٹو اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان اور انسانی حقوق کی تنظیمو ں سے اپیل کی کہ معاملے کا نو ٹس لیکر جبر ی طو ر پر لا پتہ کیئے گئے افراد کو ظا ہر کر کے آزاد کیا جا ئے ۔

انہوں نے کہا کہ سندھ سے جبر ی طو ر پر لا پتہ کیئے گئے افراد کی گمشد گی کے خلاف کر اچی میں انکے ورثاء نے احتجاج کیا تو انہیں سخت تشد د کا نشانہ بنا یا گیا اور سندھ کی بیٹیو ں کی تذ لیل کی گئی جس پر پورا سندھ سراپا احتجاج ہے ،انہو ںنے کہا کہ ملک کے پر امن شہریو ں کو گھر وں سے اٹھا کر لا پتہ کر نا ملک کے آئین اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور گذ شتہ کئی عر صہ سے سندھ سے لو گو ں کو جبر ی لا پتہ کیا جا رہا ہے ،انہو ںنے کہا کہ اگر جن لو گو ں کو لا پتہ کیا گیا ہے انکے خلاف کو ئی کیس داخل ہے تو انہیں ملک کے قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جا ئے ،انہو ںنے کہا کہ اسلام آباد میں بھی طلبا ء کو سخت تشدد کا نشانہ بنا یا گیا ہے جو کہ قابل مذمت ہے ۔

(جاری ہے)

ٹنڈ و جا م کے گو ٹھ مو سیٰ کھٹیان کے رہا ئشیو ں اور اینٹوں کے بھٹہ پر کا م کر نے والے مز دوروں نے بھٹہ ما لک انور پٹھان کی زیا دتیو ں اور مظالم کے خلاف محمد سلطان بھٹی ، ذوالفقار علی ، زبیدہ بھٹی اور علی رضا سمیت دیگر کی قیا دت میں حیدرآبادپر یس کلب کے سامنے احتجاجی مظا ہر ہ کیا گیا اور نعر ے با زی کی ،اس موقع پر مز دوروں کا کہنا تھا کہ وہ گذ شتہ کئی عر صہ سے انور پٹھان کے اینٹو ں کے بھٹہ پر مز دوری کر ر ہے ہیں اور بااثر بھٹہ ما لک نے طے کی گئی مز دوری 600روپے دینے کے بجا ئے 300 روپے دے ر ہا ہے ،انہو ںنے بتا یا کہ اپنا حق ما نگنے پر بھٹہ ما لک نے ہما رے اوپر 2لا کھ 24ہز ار قر ض ظا ہر کرکے ہمیں قید کرکے جبر ی مشقت بھی کر اتا ر ہا ہے،مز دوروں نے بتا یا کہ ہمیں قید کر نے کے حو الے سے مختیار بھٹی نے ٹنڈ و جا م تھا نہ پر کیس درج کر ایا جس کے بعد پو لیس نے کا روائی کرکے ہمیں بھٹہ ما لک کی قید سے آزاد کر ایا ہے جس پر بھٹہ ما لک انور پٹھان نے مشتعل ہو کر ہمیں سنگین نتا ئج کی دھمکیاں دینا شر وع کر دیں ہیں جس کی وجہ سے ہم عدم تحفظ کا شکا ر ہیں ،انہو ںنے ارباب اختیار سے اپیل کی کہ معاملے کا نو ٹس لیکر با اثر بھٹہ ما لک کے خلاف کا روائی کرکے ہما ری اجر ت دلو ائی جائے اور ہمیں تحفظ اور انصاف فر اہم کیا جا ئے ۔

دولت پو ر کے رہا ئشیوں کی جانب سے قاضی احمد تھا نہ کے ایس ایچ او سر ور زرداری کے ہا تھو ں مبینہ طو رپر قتل ہو نے والے با رہویں کلا س کے طالب علم سجا د جوکھیو کے قاتلو ں کی گر فتاری کیلئے حیدرآباد پر یس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا جس میں مقتول طا لب علم کے ورثاء اور مختلف سیا سی وقوم پر ست تنظیموں کے رہنما ئو ں نے شر کت کی اس موقع پر ایو ب شر ،عبا س پٹھان ،سکندر انڑ ،محبوب جو کھیو ،رزاق عمر انی اور معشوق جو کھیو سمیت دیگر نے الزام عائد کر تے ہوئے بتا یا کہ 11مئی کے روز قاضی احمد تھا نہ کے ایس ایچ او اور پو لیس اہلکا ر وں نے با رہو یں جما عت کے طا لب علم سجاد جو کھیو کو نو اب شاہ سے گرفتار کیا اوربعد میں قاضی احمد تھا نہ پر لے جا کر سخت تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرر نے کے بعد واپس نو اب شاہ تھا نہ پر پھینک کر فرار ہو گئے ،انہو ںنے کہا کہ مذکورہ طالب علم کے خلاف کوئی کیس درج ہے اور نہ ہی وہ کسی طر ح کی سر گر میو ں ملو ث تھا جسے بیگنا ہ قتل کیا گیا ہے اور 12روز گذ ر جانے کے با وجود ملز ما ن آزاد گھو م ر ہے ہیں ،انہو ںنے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ نو جو ان کے قاتلوںکو گر فتار کرکے ورثا ء کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا ئے ۔