حیدرآباد، خالد حسن عطاری کا مختلف علاقوں میں گذشتہ 12روز سے بجلی اور پانی کی بندش اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی نقل مکانی پر سخت افسوس کا اظہار

جمعرات مئی 21:39

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) پاکستان سنی تحریک کے صوبائی رہنما خالد حسن عطاری نے امریکن کواٹر اور حالی روڈ کے مختلف علاقوں میں گذشتہ 12روز سے بجلی اور پانی کی بندش اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی نقل مکانی پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیسکو عوام کیلئے سفید ہاتھی بن چکا ہے جو ہر لمحہ عوام کا لہو چوسنے میں مصروف ہے جبکہ وزیر اعظم اور وفاقی وزراء یہ سب غریبوں کی خون پسینے کی کمائی پر عیاشیاں کررہے ہیں اور غریب عوام رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی بجلی اور پانی جیسی نعمت سے محروم ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کیلئے آنے والے سنی تحریک حالی روڈ اور امریکن کواٹرز کے کارکنان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،خالد حسن عطاری نے مزید کہاکہ حیسکو نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا عذاب عوام پرمسلط کیا ہوا ہے، شدید گرمی میں بھی طویل لوڈ شیڈنگ کے ساتھ کئی کئی روز بجلی بند کرکے روزہ داروں کو اذیت دی جارہی ہے،انہوں نے کہاکہ اگر حیسکو افسران عوام کو بجلی نہیں دے سکتے تو انہیں مستعفیٰ ہو جانا چاہئے ،حیسکو کے کرپٹ افسران کرپشن اور چور بازار ی کی دلدل میں اتنے دھنس چکے ہیں کہ انہیں رمضان المبارک کے مقصد ایام کا بھی لحاظ نہیں رہا ہے،،بجلی اور پانی کی بندش کے سبب مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکان لمحہ فکریہ اور حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ، حکمران اور افسر شاہی عوام پر اتنا ظلم کریں جسے کل وہ برداشت کر سکیں روزہ داروں کی بددعائوں سے حیسکو کے افسران اور حکمران نہیں بچ سکیں گے ،ظلم کا یہ راج ضرور ختم ہو گااور اس ملک سے کرپشن ،لاقانونیت ،اور چور بازاری کا خاتمہ ضرور ہوگا،انہوں نے کہاکہ حیسکو اپنا قبلہ درست کرلے ورنہ بجلی اور پانی محروم عوام گریڈ اسٹیشنوں کارخ کرنے پر مجبور ہوں گے اور پھر حالات کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہو گی،انہوں نے کہاکہ حیسکو حالی روڈ سب ڈویژن کی انتظامیہ بجلی چوروں اور کنڈا مافیا کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے غریب لوگوں کو بجلی سے محروم کیا ہوا ہے جو کہ علاقہ مکینوں کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک کے مترادف ہے ،حیسکو چیف اس کا فوری نوٹس لیں دوسری صورت میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور حالات کی تمام تر ذمہ داری حیسکو انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔