کرپٹ وزیراعظم کو منی لانڈرنگ پر مجرم قراردلوانے میں کامیابی پرفخرہے ،عمران خان

ایوا ن میں بیٹھے جس رکن نے شرم، حیا کی بات کی تھی وہ آج یہاں م نہیں ہے ،ملک کے وزیراعظم سے کرپشن کی رقم کے بارے میں پوچھنا کونسی غلط بات تھی ہم صرف اللہ تعالیٰ کو امپائر مانتے ہیں ، فاٹا انضمام کے بعد ممکنہ درپیش مشکلات کے حل کیلئے کمیٹی قائم کی جائے ،فاٹا انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخاب اور بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے وہاں ترقیاتی کام کروائے جائیں قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا 31ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد اظہار خیال عمران خان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان کی مداخلت ، شور شرابہ، جھوٹا جھوٹا اور منافق کے نعرے حکومتی ارکان کی شدید نعرے بازی اور آوازے کسنے کے بعد عمران تقریر ادھوری چھوڑ کر ایوان سے چلے گئے

جمعرات مئی 22:02

کرپٹ وزیراعظم کو منی لانڈرنگ پر مجرم قراردلوانے میں کامیابی پرفخرہے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ ہم کامیاب ہوئے اور ایک کرپٹ وزیراعظم منی لانڈرنگ پر مجرم ٹھہرایا گیا، یہاں ایک رکن نے بیٹھ کر مجھ کو کہا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے اور آج میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ رکن یہاں نہیں ہے،ملک کے وزیراعظم کا نام پاناما پیپر میں آیا، یہ پوچھناکہ آپ کا پیسا کہاں سے آیا اور کیسے باہر گیا ، اس میں کیا غلط تھا ہمارا امپائر اللہ ہے، ہم صرف اللہ کو امپائر مانتے ہیں، فاٹا انضمام کے بعد آنے والی مشکلات کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے جو ان مشکلات کو دیکھے ،،فاٹا انضمام کے بعد وہاں بلدیاتی انتخاب کروائے جائیں اور بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے وہاں ڈویلپمنٹ کی جائے۔

(جاری ہے)

عمران خان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرابہ کیا جھوٹا جھوٹا اور منافق کے نعرے لگائے۔حکومتی ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی پر عمران خان نے اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر ایوان سے چلے گئے ۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں فاٹا اصلاحات بل منظور ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ آج پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے ،وقت ثابت کرے گا کہ یہ آئینی ترمیم پاکستان کو مزید مضبوط کرے گی ، اگر ہم یہ آئینی ترمیم نہ کرتے تو آزادی کے بعد جو ایک خلاء تھا وہ پورا نہ ہوتا اور باہر سے لوگ پھر سے انتشار پھیلا سکتے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ خطرہ یہ تھا کہ بیرونی ایکٹرز اسے استعمال کرکے ملک میں دہشت گردی نہ کرنے لگ جائیں ، قبائلی علاقے کے لوگ پاکستانی ہوتے ہوئے بھی انہیں کوئی تسلیم نہیں کرتا تھا، دہشت گردی سے آدھے قبائلیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، فاٹا بل منظور نہ کیا جاتا تو بہت انتشار پھیلتا،،فاٹا کا انضمام کوئی آسان کام نہیں، فاٹا بل منظور کرکے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیا گیا،ہمیں سمجھ لینا چاہیے یہ آسان کام نہیں ہے اس میں مسائل آئیں گے، آپریشن کی وجہ سے فاٹا کے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، ہم عوام کے نمائندے ہیں، آج اگر ہم یہ فیصلہ نہ کرتے تو قبائلی علاقوں میں جو تنا اور خلا پیدا ہو رہا تھا اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا تاہم اب انضمام کے مخالفین بل کی کمزوریاں اٹھائیں گے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ ایوان کو خبردار کرنا چاہتاہوں، اس میں خطرات ہیں کوئی اسے آسان کام نہ سمجھے ، قبائلی عوام سستا اور فوری انصاف چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انضمام کے مخالفین کمزوریاں اچھالیں گے ، قبائلی علاقے کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ناقابل عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد آنے والی مشکلات کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے جو ان مشکلات کو دیکھے ،،فاٹا انضمام کے بعد وہاں بلدیاتی انتخاب کروائے جائیں اور بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے وہاں ڈویلپمنٹ کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ 1974میں جب سوات اور دیر پاکستان میں شامل ہوئے تو اس سے قبل ان علاقوں میں سالانہ 10افراد کے قتل کی شرح تھی ، پاکستان میں شامل ہونے کے بعد وہاں انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے یہ شرح 700تک پہنچ گئی اس لئے فاٹا میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ انضمام کے بعداب قوانین کے نفاذ میں جلدی کرنا ہوگی، پاکستان کے ہوتے ہوئے وہ پاکستانی نہیں تھے انھیں اب سکھ کا سانس ملے گا۔

عمران خان نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سالوں میں حکومتی بینچوں میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ شدید تلخی رہی ، میں نے اور میری پارٹی نے جو بھی موقف اپنایا، ہمارا بنیادی کام عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ22 جماعتوں نے سپریم کورٹ میں کہا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ، کیا ہمارا مطالبہ غلط تھا کہ413 درخواستوں میں سے صرف چار کو چیک کرلیا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ ، اور الیکشن کمیشن سے رسپانس نہیں ملا تو ایک سال بعد دھرنا دیا ۔انہوں نے پاناما لیکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیراعظم کا نام پاناما پیپر میں آیا، یہ پوچھناکہ آپ کا پیسا کہاں سے آیا اور کیسے باہر گیا ، اس میں کیا غلط تھا یہ میرا جمہوری حق تھا لیگی منتخب نمائندے مجھے بتائیں کہ میں نے غلط کیا ، انہوں نے حکومتی اراکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہیہ پوچھنا کہ پیسہ کہاں سے اور کیسے آیا کیا یہ جرم ہے تاہم جو منی لانڈرنگ کی حمایت کرتے ہیں ان کا ایمان کہاں گیا، مجھے فخر ہے ایک منی لانڈرروزیراعظم کو ہٹانے میں ہم کامیاب ہوئے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ یہاں ایک رکن نے بیٹھ کر مجھ کو کہا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے اور آج میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ رکن یہاں نہیں ہے۔ عمران خان کی تقریر کے دوران حکومتی بینچوں پر موجود اراکین نے شدیدشور شرابہ کیا اور "امپائر کی انگلی اٹھنی"کا ذکر بھی کیا۔اس پر عمران خان نے کہا کہ ہمارا امپائر اللہ ہے، ہم صرف اللہ کو امپائر مانتے ہیں ۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے جھوٹا جھوٹا اور منافق کے نعرے لگائے جبکہ دانیال عزیز نے نیازی سروسز کا جواب دینے کا نعرہ لگایا ۔ حکومتی ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی پر عمران خان نے اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر ایوان سے چلے گئے ۔