عمران خان کی عرصے بعد قومی اسمبلی آمد،آخری بار کب آئے تھے خود کو بھی یاد نہیں

مجھے یاد ہی نہیں کتنے عرصے بعد پارلیمنٹ آیا ہوں, اگر صحیح اسمبلی چلاتے توہر روز آتا،عمران خان کا صحافی کو جواب

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعرات مئی 20:19

عمران خان کی عرصے بعد قومی اسمبلی آمد،آخری بار کب آئے تھے خود کو بھی ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 مئی 2018ء) عمران خان کی عرصے بعد قومی اسمبلی آمد،آخری بار کب آئے تھے خود کو بھی یاد نہیں۔صحافی نے پوچھا کہ کتنے عرصے بعد اسمبلی میں آئے ہیں تو جواب دیا کہ مجھے یاد ہی نہیں کتنے عرصے بعد پارلیمنٹ آیا ہوں, اگر صحیح اسمبلی چلاتے توہر روز آتا۔تفصیلات کے مطابق عمران خان آج ایک لمبے عرصے کے بعد قومی اسمبلی میں آئے ،تقریر کی کی اور واپس چلے گئے ۔

تا ہم پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین کا قومی اسمبلی میں آنا خبروں کی زینت بن گیا۔۔پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اس وقت قومی اسمبلی میں آئے جس وقت اپوزشین کی جانب کورم کی نشاندہی کی گئی تھی اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اراکین اسمبلی کی گنتی کر رہے تھے۔اس موقع پر عمران خان نے مختصر تقریر بھی کی جس میں انہوں نے خواجہ آصف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ وہی اسمبلی ہے جہاں ایک ممبر ہوا کرتا تھا جو ہمیں کہتا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

اس پر ن لیگ نے سخت رد عملی دینے کی کوشش کی ۔۔عمران خان کی تقریر کے بعد وزیر اعظم نے رد عمل دینا چاہا تو عمران خان وزیر اعظم کا ردعمل سنے بغیر ہی اسمبلی سے چلتے بنے۔چیئرمین تحریک انصاف سےصحافی نے سوال کیا کہ خان صاحب کتنے عرصے بعد پارلیمنٹ آئے ہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ مجھے یاد ہی نہیں کتنے عرصے بعد پارلیمنٹ آیا ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر صحیح اسمبلی چلاتے تو میں ہر روز آتا۔

یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آخری مرتبہ مئی 2016 میں قومی اسمبلی میں آئے تھے۔ کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں سب زیادہ غیر حاضر رہنے والے اراکین کی فہرست منظر آئی تھی۔جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ۔تبدیلی کے دعوے دار پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے غیر حاضریوں کے ریکارڈ بنا ڈالے۔سب سے زیادہ غیر حاضر رہنے والوں کے لیے اراکین میں عمران خان کا دوسرا نمبر آ گیا جبکہ پہلا نمبر آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہونے والے علی محمد مہر کا ہے۔فافن کی رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز تیسرے ،،فریال تالپور چوتھے اور سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی پانچویں نمبر پر ہیں۔