کالا باغ ڈیم نہ بنا تو قوم ایک ایک بوند پانی کو ترسے گی، آفتاب لودھی

جمعرات مئی 22:41

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) چیئرمین پاکستان عوامی تحریک ِانقلا ب پروفیسر آفتاب لودھی نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی دریاؤں پر باگلیہاراور کشن گنگا ڈیم بنالئے جبکہ ڈیرھ سو سے زائدچھوٹے بڑے پن بجلی کے منصوبے بنانے میں مصروف ہے۔ گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر آفتاب لودھی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم نہ بنا تو قوم ایک ایک بوند پانی کو ترسے گی اور حکمرانوں کا ڈیم کی بجائے لگژر ی پروجیکٹ بنانا قومی مفادات سے غداری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم نہ بنائے گئے توپاکستان ایک ایک بوند پانی کے لئے بھارت کا محتاج ہو جائے گا۔۔سندھ طاس سمجھوتے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت پاکستان کے تینوں دریاؤں کا ایک ایک قطرہ چھین کر پاکستان کو پیاسا اور بنجر صحرا بنانا چاہتا ہے جبکہ ہمارے حکمران چین کی نیند سو تیرہے ہیں اور بھارت کو یہ یقین ہے کہ اس کام میں اس کو قطعاً کوئی دشواری نہ ہوگی کیونکہ ہمارے حکمرانوں کا ایجنڈاحصول اقتدار اور دوام اقتدار کیسوا کچھ نظر نہیں آتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایوب خان نے سات ڈیم بنائے لیکن اٴْن کے بعدپھر کوئی ڈیم نہ بن سکا ، ڈیم نہ بنانے والی حکومتیں ملک و قوم کی مجرم ہیں۔۔ڈیم نہ ہونے کے سبب عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ ورلڈ بنک نے بھی بھارت کو ہمارے دریاؤں پر ڈیم سازی کی اجازت دے دی ہے ، دریائے چناب کے بعد جہلم بھی خشک ہورہا ہے اور ملک 27 فیصد پانی سے محروم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیم سازی کی بات کرتے ہیں تو "را" کے پروردہ عناصرفورا ً ڈیم سازی کے خلاف صف آرا ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کشمیر کی طرح ہماری بقا کے لئے لازم ہے اور میٹروبس اورنج ٹرین سے لاکھوں گنا اہم ہے جسے وطن دشمنوں کے ایما پر ترک کر دیا گیا ہے اور اگر اس پر کام نہ کیا گیا تو قوم پیاسی اور ملک بنجر ہو جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری نا اہل حکمرانوں پر ہوگی۔

پروفیسر آفتاب لودھی نے آرمی چیف اور چیف جسٹس سے پانی کے بحران کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے کیونکہ حکومت نے اس صورتحال کے لئے کوئی کاروائی نہیں کی۔ بھارتی آبی جارحیت آئندہ پاک بھارت جنگ کی ایک بڑی وجہ اور مسئلہ کشمیر کی طرح" نیوکلئیر فلیش پوائنٹ" بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے مغربی دریاؤں کا پانی روک لیا ہے اور دریاؤں کا ایک ایک قطرہ چھین کر پاکستان کو پیاسا اور بنجر صحرا بنانے کے منصوبے پرکاربند ہے۔