فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی بھاری اکثریت سے پاس ہونے پر قبائلی عوام کو مبارکباد دیتے ہیں ، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا

جمعرات مئی 22:43

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی بھاری اکثریت سے پاس ہونے پر قبائلی عوام کو مبارک دیتے ہوئے اسے جماعت اسلامی کے مؤقف اور قبائلی عوام کی جیت قرار دیا ہے۔ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام تاخیر سے ہورہا ہے لیکن دیر آئد درست آئد ۔

اپنے دفتر مرکز اسلامی پشاور سے جاری کئے گئے بیان میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے 31ویں آئینی ترمیمی بل کی بھاری اکثریت سے منظوری تاریخی موقع ہے۔ اس بل کے پاس ہونے سے فاٹا کے عوام کو نئی پہچان ملے گی۔ انشاء اللہ آج (جمعہ) سینیٹ سے بھی فاٹا انضمام کی 31ویں آئینی ترمیم کو بھاری اکثریت سے پاس کرائیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے تاریکیوں کے مسافر اور فاٹا کے عوام کے ساتھ غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے ہی دراصل فاٹا کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے فاٹا آج پاکستان کا غریب اور پسماندہ ترین علاقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والوں نے ہمیشہ قبائلی عوام کا استحصال کیا، انہیں وسائل سے محروم رکھا اور ضرورت کے وقت فاٹا کے عوام کو تنہا چھوڑا ہے۔

فاٹا کے عوام ان چہروں کو پہچانیں اور آئندہ انتخابات میں انہیں نمونہ عبرت بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لئے ایک ہزار ارب روپے کے پیکج، سی پیک میں فاٹا کو حصہ ،تین فیصد این ایف سی میں حصہ، تیس ہزار نوجوانوں کو فوری روزگار کی فراہمی ہمارے اہداف ہیں، انشاء اللہ ان اہداف کو بھی حاصل کریں گے ۔ فاٹا اور پاٹا کو ختم کرنا اور پاٹا کو پانچ سال تک ٹیکس فری زون قرار دینا نیک شگون ہے۔

فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے سے ان کی محرومیوں کا ازالہ ہوگا۔ پاکستان کے شمالی اضلاع اور فاٹا ترقی کے لحاظ سے صوبے کے باقی اضلاع سے زیادہ پسماندہ ہیں، پانچ سال کے لئے ٹیکس چھوٹ سے ان علاقوں کے عوام کو ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی قبائل کے حقوق کے لئے جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد سے فاٹا سے اندھیروں کا خاتمہ ہوا اور فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوا۔