سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 19.6 ارب روپے مالیت کے 24 منصوبے منظور ی دیدی گئی

1.39 ارب روپے مالیت کے 12 منصوبے ایکنک کو بھجوا دئیے گئے

جمعرات مئی 22:58

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سنٹرل ڈویویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 19.6 ارب روپے مالیت کے 24 منصوبے منظور ی دیدی جبکہ 781.39 ارب روپے مالیت کے 12 منصوبے ایکنک کو بھجوا دئیے گئے سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

توانائی ،ْآبی وسائل ، ٹرانسپورٹ و مواصلات، ، فزیکل پلاننگ، گورننس ، ہائر ایجوکیشن ، تعلیم ، افرادی قوت ، ماس میڈیا ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، خوراک و زراعت ، ماحولیات اور صحت سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے ۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں توانائی کے تین منصوبے پیش کیے گئے جس میں 234925.89 ملین روپے کی لاگت کا چشمہ نیو کلیئر پاور پروجیکٹ یونٹ 3 اور 4 کے منصوبے کو اجلاس نے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا جبکہ جھمپر۔

(جاری ہے)

ون 220 کے وی گریڈ سٹیشن میں پائلٹ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم کی تنصیب کے لیے 836.74 ملین روپے اور 3098.612 ملین روپے کی لاگت کا درگئی ہائیڈرو الیکٹرکپاور سٹیشن کے منصوبوں کو منظور کر لیا گیا ۔سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکشن کے 6 منصوبے پیش کیے جس میں خیبر پختونخواہ میں اقتصادی راہداری کے لیے 8357 ملین روپے ، شیر شاہ سوری سڑک سے لے کر بیگم کوٹ شیخوپورہ اور مریدکے روڈ تک تعمیر اور اپگریڈیشن کے لیے 4722.024 ملین روپے ، پشاور تورخم موٹر وے منصوبے کی تعمیر کے لیے 41440.50 ملین روپے ، مردان سے صوابی تک سڑک کو دو رویہ بنانے کے لیے 9550 ملین روپے ، پاکستان ریلوے کی موجودہ ایم ایل ون اور حویلیاں کے قریب خشک بندرگاہ کی اپ گریڈیشن کے لیے 381038 ملین روپے ، کورال انٹر چینج سے جی ٹی روڈ اسلام آباد کے درمیان اسلام آباد ہائی وے کے کنٹرول رسائی راہداری کی تعمیر کے لیے 10753 ملین روپے کے منصوبے پیش کیے گئے جن کو اجلاس نے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا ۔

اجلاس میں آبی وسائل کے 4 منصوبے پیش کیے گئے جس میں ناری دریا کے بابر کچھ کا تفصیلی ڈئزائن اور فزیبیلٹی رپورٹ کے لیے 75.072 ملین روپے ، ساوتھ وزیرستان ایجنسی میں چاو تنگی سمال ڈیم کے لیے 994.01 ملین روپے کا منصوبہ ، بلوچستان میں ابی وسائل کی ڈویلپمنٹ کے لیے 15526.00 ملین روپے اور بلوچستان کے ضلع قلع سیف للہ کے بتو زئی سٹوریج ڈیم منصوبے کی تعمیر کے لیے 4905.667 ملین روپے کے منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا ۔

اجلا س میں کل 4 منصوبے فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ مری پور روڈ کراچی میں واقع پاکستان میرین اکیڈمی کے آڈیٹوریم ہال کی تعمیر کے منصوبے کے لیے 177.204 ملین روپے لاگت ، پاکستان میرین اکیڈمی مری پور روڈ پر واقع صدارتی فلیٹس کیٹ 4 اور 5 و وسیع کرنے کے لیے 190.345 ملین روپے ، نیکٹا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد جوائینٹ انٹلی جنس ڈائیرکٹریکٹ کی تعمیر کے لیے 400 ملین روپے اور خیبر پختونخواہ انٹر میڈیٹ سٹی کی ترقی اور سرمایہ کے لیے ریڈیننس فنانسنگ منصوبے کے لیے 1320 ملین روپے کی لاگت پیش کی گئی ان چاروں منصوبوں کو اجلاس نے منظور کر لیا ۔

سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 6 منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ کائٹی میں نسٹ کیمپس کی تعمیر کے لیے 2622.866 ملین روپے ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہاسٹل کی تعمیر اور کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 316.390 ملین روپے ، پشاور یونیورسٹی کی اپگریڈیشن کے لیے 748 ملین روپے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان اور مختلف ممالک کے درمیان تعلیم و تحقیق کے روابط کو بڑھانے کے لیے دو طرفہ معاہدے کا منصوبہ پیش کیا جس کی کل لاگت 467.212 ملین روپے اور گلگت بلتستان میں خلائی تحقیقاتی سنٹر کی تعمیر کے لیے 665.619 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا اجلاس نے ان تمام منصوبوں کو منظور کر لیا ۔

دو منصوبے خوراک و زراعت کے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ عمر کوٹ ایرڈ زون ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے پیش کیا گیا جس کی کل لاگت 528.592 ملین روپے مختص کی گئی جس کو اجلا س میں منظور کر لیا گیا ۔ ۔ دوسرا منصوبہ نباتاتی بریڈرس کے حقوق کی رجسٹری کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 528.461 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔

سنٹرل ڈویلپمنٹ کے اجلاس میں ماحولیات کے تین منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ پاکستان میٹروجیکل ڈیپارٹمنٹ میں ماحولیاتی آفات سے بچاو کے لیے بہتر سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کی کل لاگت 12942 ملین روپے مختص کئے گئے جس کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک بھجوا دیا گیا ۔ پورے ملک میں آفات سے بچاو کے لیے ڈزاسٹر رسک مینجمنٹ ( ڈی ط آر۔

ایم ) سروس منصوبے کے لیے 10176.120 ملین روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا ۔ ۔ ملتان میں موسمی ریڈار کی تنصیب کے لیے 1848.650 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔۔پاکستان سپیس سنٹر کی تعمیر کے لیے سپارکو کی جانب سے 26998.9 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا آزاد جموں و کشمیر میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی تعمیر کے لیے 1038.557 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔

صحت کا پہلا منصوبہ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں 725 ملین روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا جس کا قصد اسلام آباد پمز ہسپتال کے ایچ وی اے سی ڈیپارٹمنٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔ دوسرا منصوبہ پمز ہسپتال کے آرگن ٹرانسپلانٹ سنٹر کی موجودہ سہولیات کو بہتر بننے کے لیے 603.94 ملین روپے مختص کیے گئے جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔

ساوتل قرآن ایف ایم نیٹ ورک فیز 2 کی اپ گریڈیشن کے لیے 138.689 ملین روپے کا منصوبہ پیس کیا گیا س کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔گلگت بلتستان میں مصنوعی ہاکی ٹرف کو بچھانے کے لیے 123.713 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔ پاکستان کے تیرہ اضلاع میں ہیوی مشینری آپریٹر سہولیات اور نیشنل ٹریننگ بیورو کے اندر سنٹرز آف ایکسلنس کی تعمیر کے لیے 1801 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا ۔وفاقی دارلحکومت کے پاکستان ٹاون میں اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز کی تعمیر کے لیے 161.686 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا ۔