فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام بارے بل کسی بیرونی دبائو کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے کے بعد قومی اسمبلی سے منظور ہوا ہے، کے پی کے کے ساتھ فاٹا کا انضمام پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ رہا ہے،پاکستان بالخصوص فاٹا کے عوام کیلئے قومی اسمبلی سے بل کی منظوری تاریخی کارنامہ ہے،

مسلم لیگ (ن) نے پہلے کبھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور نہ ہی آئندہ کرے گی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات مئی 23:09

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام بارے بل کسی بیرونی دبائو کی وجہ سے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات ((فاٹا)) کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بارے میں بل کسی بیرونی دبائو کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے کے بعد قومی اسمبلی سے منظور ہوا ہے، کے پی کے کے ساتھ فاٹا کا انضمام پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ رہا ہے، مسلم لیگ (ن) نے نہ تو پہلے کبھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور نہ ہی آئندہ کرے گی۔

وہ جمعرات کو وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب،، وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ،، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور فاٹا سے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان بالخصوص فاٹا کے عوام کیلئے قومی اسمبلی سے بل کی منظوری تاریخی کارنامہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے کے پی کے کے ساتھ ادغام کا معاملہ مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ اور منشور کا حصہ رہا ہے جبکہ فاٹا اور دیگر علاقوں کے عوام کی بھی یہ دیرینہ خواہش تھی، قومی اسمبلی میں یہ بل دوتہائی اکثریت سے منظور ہوا ہے اور 229 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرتاج عزیز کی قیادت میں فاٹا اصلاحات کمیٹی قائم کی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ اور گورنر کے پی کے، آرمی چیف اور دیگر فریقین پر مشتمل عملدرآمدی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد تمام فریقین نے پرانے قبائلی قوانین کو باضابطہ قوانین میں تبدیل کرنے اور علاقہ کو کے پی کے کے ساتھ ضم کرنے کیلئے اتفاق رائے پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالہ سے بل پر بڑی محنت کی گئی اور تمام پہلوئوں کا بغور جائزہ لیا گیا، 100 سال پرانے نظام کو بدل رہے ہیں اس حوالہ سے کام شروع کیا گیا اور بہت سی آراء سامنے آئیں اور ان کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کی گئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کے بعد اپوزیشن کو اعتماد میں لیا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کا مشکور ہوں جنہوں نے تیارکردہ تمام سفارشات کا جائزہ لیا اور اپنی رائے بھی دی، اس کے بعد آج قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری دوتہائی اکثریت سے حاصل کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بل کی منظوری میرا کارنامہ نہیں ہے، یہ ہمارا فرض تھا، ہماری جماعت کا منشور تھا، اسے پورا کیا، اس حوالہ سے کوئی بیرونی دبائو نہیں تھا، تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے دوتہائی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا ہے، آج اس عمل کی ابتداء کی ہے، ہم نے اس کو لے کر آگے چلنا ہے، چند دنوں، مہینوں یا ہفتوں کا نہیں سالوں کا عمل ہے، بالخصوص فاٹا کے نوجوانوں کا اس حوالہ سے ہم نے اعتماد حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس بل کے مطابق صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک سال کے عرصہ میں ہوں گے کیونکہ حلقہ بندی اور سیاسی نظام ابھی استوار کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے مطابق تو فاٹا میں قومی اسمبلی کی 6 نشستیں بنتی ہیں لیکن ابھی فاٹا کی 12 نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں اور سینٹ کی نشستوں کو تحفظ دیا گیا،2021ء میں 4 اور 2024ء میں 4 سینٹ کی نشستیں خالی ہو جائیں گی اور ان پر انتخاب نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 246 اور 247 میں ترمیم کی گئی ہے، پہلے مرحلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائیکورٹ پشاور کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا گیا، پولیس نظام، عدالتوں کی تشکیل، فزیکل انفراسٹرکچر، پورا حکومتی نظام بنانا پڑے گا، اب جو قانون پاس کیا گیا ہے،،ایف سی آر کا قانون بھی ختم کریں گے اور کلیکٹو سزائیں بھی ختم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات فاٹا میں اسی سال منعقد کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ڈویلپمنٹ کے لئے 10 سال کیلئے 100 ارب سالانہ خرچ کئے جائیں گے تاکہ اس علاقہ کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کے تحفظات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر طویل غور و خوض اور بحث ہوئی ہے، فاٹا معاملہ پر تمام جماعتوں نے کھل کر اظہار رائے کیا، اکثریتی رائے یہی تھی کہ فاٹا کو پاکستان جیسی تمام سہولیات ملنی چاہئیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھی ایک ایکٹ پاس کرنا ہو گا، اگر موجودہ اسمبلی اپنی بقیہ مدت میں یہ ایکٹ پاس کرانا چاہے گی تو مسلم لیگ (ن) اس کی حمایت کرے گی، ورنہ اگلی حکومت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم نے مل بیٹھ کر کرنا ہے کہ فاٹا کیلئے 100 ارب سالانہ 10 سال کس طرح خرچ کرنا ہے، فاٹا کے پی کے کا حصہ بن جائے گا تو این ایف سی کے تحت انہیں حصہ ملے گا، یہ سپیشل ڈویلپمنٹ پروگرام ہے جس کے تحت 10 سالوں میں 1000 ہزار ارب دیا جائے گا۔

آئینی ترمیم کیلئے بڑی تعداد میں ارکان کے پارلیمنٹ نہ آنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس میںکچھ اراکین نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اجلاس میں نہیں آئے جبکہ بعض بیرون ملک ہیں یا بیمار ہیں لیکن کچھ دوسری پارٹیوں چلے گئے اور کچھ استعفیٰ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی اس بل کو دوتہائی اکثریت حاصل ہوئی۔

سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے بعض اراکین سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی بڑی تعداد نہیں، چند افراد پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں، ان لوگوں کا ماضی کا ریکارڈ اور سیاسی رویہ عوام کے سامنے ہے، ماضی کے ریکارڈ کے مطابق وہ اسی راستے پر چلتے رہے ہیں، ایسے سیاستدان کی عزت نہیں ہوتی کہ وہ پانچ سال اقتدار میں رہنے کے بعد آخری 15 دنوں میں ایسا کر رہے ہیں، ایسے لوگ مختلف جماعتوں میں آتے رہتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک بھی اپنی جگہ پر موجود ہے، جو لوگ اس طرح کا کرتے ہیں انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا، پاکستان کے عوام بھی اس چیز کو دیکھ رہے ہیں، سیاسی وفاداریاں تبدیلی کرنے والوں کے بارے میں انتخابات میں فیصلہ عوام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اصولی اور اخلاقی طریقہ یہی تھا کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے کا انتظار کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جو نواز شریف کے نظریہ کو پارٹی چھوڑنے کے فیصلہ کا محرک بتا رہے ہیں وہ درست نہیں، عوام ایسے افراد کے سیاسی ریکارڈ سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حکومت ان افراد کے خلاف کارروائی کرے گی جن کا ذکر نواز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ اس طرح کے معاملات میں پراسیکیوشن نہیں کی جا سکتی تاہم دوسرے ممالک کی طرح ٹروتھ کمیشن بنا کر ایسے معاملات کو دیکھا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو حقائق کا علم ہو تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا ٹروتھ کمیشن اتفاق رائے سے بننا چاہئے، قومی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہئے، تمام جماعتیں بیٹھیں جب سے پاکستان بنا ہے جو کچھ ہوا ہے اسے دستاویزات میں لے آئیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور مستقبل میں ایسی خرابیوں سے بچا جا سکے۔

نگران وزیراعظم کی تقرری کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کی طرف سے تین، تین نام تجویز کئے گئے ہیں لیکن ان پر اتفاق نہیں ہوا، جمعہ یا پیر کو فیصلہ کر لیں گے کہ ان میں سے یا کسی اور نام پر اتفاق ہو سکتا ہے تو ٹھیک ورنہ دو، دو نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیئے جائیں گے، اگر پھر بھی معاملہ طے نہ ہوا تو یہ چاروں نام حتمی فیصلہ کیلئے الیکشن کمیشن کو بھیج دیئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے نہ پہلے کبھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور نہ ہی آئندہ کرے گی، ہمیں انتخابات میں حصہ لینا ہے، اس وقت میڈیا میں جو باتیں ہو رہی ہیں مجھے ان میں معروضیت نظر نہیں آتی۔