کوئٹہ، سیاسی ومذہبی جماعتوں سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا، ملک سمندر خان کاسی

بے روزگاری سے معاشرے میں عدم برداشت اور بگاڑ پیدا کر کے امن وامان اور دہشتگردی اور انتہا پسندی روز بروز زور پکڑ رہی ہے، رہنمائتحریک انصاف

جمعرات مئی 23:19

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء ملک سمندر خان کاسی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ موجودہ پارٹیاں عوام کے معیار اور توقعات پر پورے نہیں اتر رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے اعتماد ختم ہو رہا ہے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے سیاسی ومذہبی جماعتیں انتخابات کے دوران عوام اور بالخصوص بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں سے جھوٹے وعدے اور دعوے کر کے بلکہ نوجوانوں کو نوکریوں کا جھانسہ دے کر ووٹ لے کر پھر اس پر عمل میں نہیں کر تے اور نہی ایسے مواقع اور منصوبہ بندی نہیں کر تے جس کی وجہ سے عوام اور بالخصوص بے روزگاری نوجوانوں میں عدم برداشت روز بروز زور پکڑ رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر کے امن وامان اور دہشتگردی اور انتہا پسندی پیدا ہو تی ہے اور سیاسی ومذہتی عسکری قو توں کے سامنے بے بس اور ان پر اعتماد بحال کرنے کیلئے خوشامدی ، چاپلوسی اور چمچہ کلچر پروان اور سیاسی مذہبی جماعتیں ایک دوسرے نیچا دکھا نے کیلئے ایک دوسرے پر کیچڑ اور غیر جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے سیاسی کارکنوں سے نفرت اور بد تمیزی مزید بڑھ جائے گی اور جب تک ملک میں نظریاتی فکر سوچ اور جمہوری اقدار کو نہ اپنائے اس وقت عوام بالخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں میں غیر سیاسی سوچ تیسری قوت کی طرف دیکھنا تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توہین ہے اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی ومذہبی قوتیں ملک کے تمام مسائل کے لئے اکٹھا اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کر کے جدوجہد کر کے وہ قو تیں جو ملک میں جمہوریت کو کمزور اور اپنی مرضی کے مطابق مصنوعی سیاسی عناصر کو حقیقی سیاسی ومذہبی قوتوں کے مد مقابل لاکر اپنی مرضی کی حکومتیں بنائیں اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو نظرانداز کر کی2013 کی طرں اپنے پسند نا پسند جماعتوں اور افراد کو کامیاب کر کے جمہوریت کے آڑ میں نام نہاد جمہوری قو توں کو آگے لا کر پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی اور معیشت کو اپنے طرز پر چلائیں اگر اس وقت بھی سیاسی قوتیں یکجا نہیں ہو ئے تو عوام مجبور ہو کر تیسری قوت خوش آمدید کر کے اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے جو حقیقی اور نظریاتی فکری اور سیاسی سوچ اور صوبائی خود مختاری قوموں کے حقوق اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کیئے جلیں، صعوبتیں برداشت کی اور ملک سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو یہ ساری قربانیاں ضائع کرنے کی بجائے ان غیر جمہوری قوتوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ان غیر سیاسی مصنوعی عناصر کے خلاف جمہوری اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام ایسے عناصر محفوظ رکھے ان تمام مسائل کا حل سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی اور ملک کے دانشور، ادیب ، عسکری قوتیں کا ایک پیکج پر ہونا ضروری ہے اس کے بجائے کہ سیاسی قو تیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے بعض اداروں کا خوشامدی، چاپلوسی کرے اس سے بہتر ہے کہ دن کے روشنی میں سب عسکری قو توں سے ملاقات کرے اور رات کے اندھیرے سے دن والے بہتر ہے۔