اپنی بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کرنوازشریف کی چیخیں نکل گئیں، کیا میاں صاحب وہ وقت بھول گئے جب جسٹس(ر) قیوم سے کہہ کر شہید بے نظیر بھٹو کی ایک دن میں معصوم بچوں کو گود میں اٹھایے تین تین پیشیاں کرواتے تھے ،نواز شریف کا "احتساب الرحمن" احتساب نہیں ہو رہا بلکہ بدعنوانی مقدمات آزاد عدلیہ میں زیر سماعت ہیں

سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری کی پارٹی وفو دسے گفتگو

جمعرات مئی 23:32

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری نے کہاہے کہ آج اپنی بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کرنوازشریف کی چیخیں نکل گئیں کیا میاں صاحب وہ وقت بھول گئے جب جسٹس(ر) قیوم سے کہہ کر شہید بے نظیر بھٹو کی ایک دن میں معصوم بچوں کو گود میں اٹھایے تین تین پیشیاں کرواتے تھے نواز شریف کا "احتساب الرحمن" احتساب نہیں ہو رہا بلکہ بدعنوانی مقدمات آزاد عدلیہ میں زیر سماعت ہیں، جلد متوقع عدالتی فیصلوں کی وجہ سے نکلنے والی چیخ وپکار سے قوم پوری طرح آگاہ ہے۔

بدعنوانی کے نا قابل تردید ٹھوس شواہد اور ثبوتوں پر نواز شریف عدلیہ سے مستقل نالاں ہوئے۔ وہ جمعرات کو مرکزی دفتر میں پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں اور کارکنوں سے گفتگو کررہے تھے ۔

(جاری ہے)

نیر بخاری نے کہا کہ بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان قائد کی قیادت میں آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے۔ پیپلز پارٹی اپنی قومی خدمات اور کارکردگی کی بنیاد پر عوامی عدالت سے بھرپور اعتماد حاصل کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوان نواز زشریف ذاتی مفاد میں بچوں کی اولاد کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ نواز شریف اور صاحبزادی عدالتوں میں بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام ہیں صفائی میں کچھ نہ ہونے پر نواز شریف سیاسی جواب اور وکلا پھلجھڑیاں چھوڑتے جا رہے ہیں۔ احتساب عدلیہ کر رہی ہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ نواز شریف نے ہر بار غیر ذمہ دارانہ رویہ پر معافیاں لیں ۔

ملک اور ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی پر رعایتیں دی گئیں بدعنوانی ملزمان دہشت خوف دھمکی دباؤ سے آزاد ہیں انہوں نے کہا کہ عدالت پر حملہ آور ہونے والے پھر عدلیہ کے خلاف زبان درازی کر رہے ہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ قائدین معاہدے کرکے بھاگتے نہیں قوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نواز شریف غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہو ئے ہیں ۔ نواز شریف اپنی سنگین غلطلیوں کا قوم کے سامنے اعتراف کریں ریاست کے ساتھ محاز آرائی سے اجتناب کریں۔