لاہور ہائیکورٹ نے سترہ سال سے لا پتہ نوجوان کے مقدمہ چالان پیش نہ کرنے پراظہار بر ہمی

جمعرات مئی 23:33

لاہور۔24 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے سترہ سال سے لا پتہ نوجوان کے مقدمہ چالان پیش نہ کرنے پر سخت بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈویڑن کے ایس پی کو کیس کا تمام ریکارڈ لے کر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

جمعرات کواحاطہ عدالت کے باہر مغوی کی ماں رو رو کر پولیس دہائی دیتی رہی ،تفصیلات کے مطابق گزشتہ 17 سال قبل ندیم قیصر جوکہ سیکو فیکٹری میں بطور ملازمت کام کر رہا تھا ڈیوٹی کے واپسی پر گھر پہنچا ہی تھا کہ واپسی پر اسکے ساتھی حنیف اور ندیم اسکوبلانے کیلئے آگئے کہ فیکٹری کا مالک آپکو دوبارہ بلا رہا ہے جوکہ اپنے مالک سے ملنے گیا اور تاحال واپس نہ آیا ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 14 دن میںدرج ہونیوالا چالان پولیس کی عدم توجہ کے باعث تاحال عدالت میں جمع نہ کروایا جا سکا۔

جس پر عدالت عالیہ نے مقدے کا چالان جمع نہ کروانے پرپولیس آفیسر سے اظہار برہمی کرتے ہوئے ڈویڑن کے ایس پی کو کیس کا تمام ریکارڈ لے کر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آج بروز جمعہ تک ملتوی کر دی۔