سپریم کورٹ نے ریلوے پولیس میں 6 اہلکاروں کی غیرقانونی بھرتی کے حوالے سے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

جمعرات مئی 23:38

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے پاکستان ریلوے پولیس میں 6 اہلکاروں کی غیرقانونی بھرتی کے حوالے سے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مذکورہ اہلکاروں کوملازمت سے فارغ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اورکہا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو اپنے گھر جانا ہوگا، جس نے بھی ریلوے پولیس میں غیرقانونی طریقے سے لوگوں کو بھرتی کیا ان سے پیسہ ریکور کیا جائے۔

جمعرات کوجسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائزعیسی اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ریلوے پولیس کی جانب سے سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔ اس موقع پر بنچ کے سربراہ نے کہاکہ ریلوے پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی جوغیرقانونی طور پر بھرتی ہوگئے ہیں انہیں اپنے گھروں کو جانا ہوگا اور جس نے یہ بھرتیاں کی ہیں ان سے پیسہ ریکور کیا جائے،یہ کوئی عام کیس نہیں، بلکہ بوگس بھرتیوں کا مقدمہ ہے‘ ریلوے پولیس ایک اہم فورس ہے جس کی ذمہ داری بہت حساس ہے، اس لئے اس میں غیرقانونی بھرتیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران برطرف پولیس اہلکاروںکے وکیل نے پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ان کے موکلان کی بھرتی میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے تھے، تو جسٹس سجاد علی شاہ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا ان اہلکاروں کی بھرتی کیلئے کوئی اشتہار دیا گیا تھا تو فاضل وکیل نے کہا کہ میرے موکلان نے ایس پی کودرخواست دی تھی ،جس کے بعد ان کو بھرتی کرلیا گیا تھا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ کے موکلان کو کس طرح علم ہوا کہ ریلوے پولیس میں خالی اسامیاں موجود ہیں۔ بعد ازاںعدالت نے ریلوے پولیس کی اپیل منظور کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا اورغیرقانونی طورپربھرتی ہونے والے اہلکاروں کونوکریوں سے فارغ کرنے کا حکم جاری کردیا،یاد رہے کہ ریلوے پولیس نے غیرقانونی طور پر بھرتی ہونے والے چھ اہلکار برطرف کر دیے تھے،جن کی اپیلوں پرسروس ٹربیونل نے انہیں بحال کر دیا تھا، اس فیصلے کے خلاف پاکستان ریلوے پولیس نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔