پاکستان میں امیر ترین طبقہ آمدنی کا 10 تا 15فیصد، غریب طبقہ 70 تا 80 فیصد خوراک پر خرچ کرتا ہے، رمضان المبارک کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ سے غریب افراد کومذہبی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عالمی بینک کی رپورٹ

جمعہ مئی 10:30

پاکستان میں امیر ترین طبقہ آمدنی کا 10 تا 15فیصد، غریب طبقہ 70 تا 80 فیصد ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) غذائی افراط زر سے 80 فیصد پاکستانی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے بھی کم ہے۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق معاشرہ کے امیر ترین طبقات اپنی آمدنی کا 10 تا 15فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں جبکہ متوسط طبقہ اس حوالے سے 30 تا 40 فیصد اخراجات کرتا ہے لیکن معاشرے کے غریب طبقات اپنی مجموعی آمدنی کے 70 تا 80 فیصد کے مساوی غذا اور خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے غریب طبقات غذائی اجناس اور خوراک کی قیمت کے بڑھنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ 80 فیصد کے قریب پاکستانیوں کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے بھی کم ہے اس لئے انہیں اپنی غذائی ضروریات کی تکمیل کے لئے اپنی تمام تر آمدنی خرچ کرنا پڑتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس ماہ کے دوران کھانے پینے کی اشیاء اور پھلوں و سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کے نتیجہ میں غریب افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور انہیں اپنی مذہبی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔