عمران خان پارلیمنٹ کیوں گئے ؟ ان کا کیا مقصد تھا ؟

عمران خان کو پارلیمنٹ جانے کا مشورہ دینے والے کو داد دینی چاہئیے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مئی 10:44

عمران خان پارلیمنٹ کیوں گئے ؟ ان کا کیا مقصد تھا ؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 مئی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی رﺅف کلاسرا نے کہا کہ عمران خان نے اسمبلی میں پیش ہو کر یہ کہا کہ مجھے یاد بھی نہیں کہ میں آخری مرتبہ اسمبلی کب آیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عمران خان اسمبلی اس لیے گئے ، کیونکہ کسی نے ان کو مشورہ دیا گیا ہو گا اور ان کو بتایا گیا ہو گا کہ آج اگر آپ اسمبلی نہ گئے تو آپ اپنی سپورٹ کھو سکتے ہیں۔

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پشتوں بیلٹ میں عمران خان کی کافی سپورٹ موجود ہے ،ان کو کسی سمجھدار نے مشورہ دیا ہے کہ آج فاٹا کے انضمام کا بل ایوان میں پیش کیا جانا ہے لہٰذا آج آپ کا وہاں ہونا لازمی ہے۔ خان صاحب کو مشورہ دینے والے کو داد دینی چاہئیے۔ اور خان صاحب کو بھی داد دینی چاہئیے کہ انہوں نے اس مشورے یا نصیحت کو سمجھ لیا ،کیونکہ آج کے دن اگر عمران خان ایوان میں پیش نہ ہوتے تو ان کو فاٹا انضمام کے مخالف دو لوگوں کے ساتھ بریکٹ کیا جانا تھا ، اور وہ دو لوگ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان ہیں۔

(جاری ہے)

ان دونوں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بریکٹ ہونے سے بچنے کے لیے ہی عمران خان آج اسمبلی میں پیش ہوئے۔ اگر وہ اسمبلی نہ جاتے تو اب تک پورے میڈیا اور ان کے مخالفین نے ان کو خوب آڑے ہاتھوں لے لینا تھا۔ لیکن ان کو مشورہ دینے والے نے عمران خان کو اس چیز سے بچا لیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روزقومی اسمبلی میں فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے لیے 31 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی گئی ۔

اسمبلی میں فاٹا کے حق میں 229ارکان نے ووٹ دیا۔ایوان میں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان بھی تشریف لائے۔ اسمبلی کے باہر صحافیوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ کتنے عرصے بعد قومی اسمبلی تشریف لائے ہیں؟ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ مجھے یاد بھی نہیں ہے کہ میں آخری مرتبہ اسمبلی کب آیا تھا، اگر حکومت اپنا کام صحیح سے کرتی تو روز اسمبلی آتا۔ ایوان کو درست طریقے سے چلانا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ عمران خان نے مزید کہا کہ ایوان میں فاٹا اصلاحات بل پیش کیا جانا تھا اسی لیے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ ایوان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور خود بھی اسی لیے پیش ہوا ہوں۔