ایون فیلڈ ریفرنس کیس: مریم نواز نے مزید سوالوں کے جواب دے د ئیے

رابرٹ ریڈلے رپورٹ حقائق کے منافی ہے جس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، بذریعہ اختر راجا ریڈلے کی خدمات لینے کا مقصد انتہائی جعلی رپورٹ لینا تھا اور مجھے اور میرے شوہر کو اس کیس میں ملوث کرنا تھا،مریم نواز کا احتساب عدالت میں بیان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ مئی 10:59

ایون فیلڈ ریفرنس کیس: مریم نواز نے مزید سوالوں کے جواب دے د ئیے
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 مئی 2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلسل دوسرے روز اپنا بیان قلمبند کرا رہی ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ نامزد تینوں ملزمان نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔۔مریم نواز نے گزشتہ روز عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات میں سے 46 کے جواب دیے اور آج دوسرے روز بیان قلمبند کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی اور سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے سوالات میں ٹرسٹ کا سوال نہیں تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنے طور پر ہی اس معاملے میں کارروائی آگے بڑھائی۔

(جاری ہے)

جس نے بدنیتی کی بنیاد پر نام نہاد آئی ٹی ماہر سے رائے مانگی۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ آئی ٹی ماہر کو انگیج کرنا اور دستاویزات دینے کا عمل انتہائی مشکوک ہے۔ رابرٹ ریڈلے کو جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے کزن اختر راجا کے ذریعے ہائر کیا گیا، یہ نہیں بتایا کہ جے آئی ٹی نے خود یا بذریعہ دفتر خارجہ ریڈلے کی خدمات کیوں نہ لیں۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ بذریعہ اختر راجہ ریڈلے کی خدمات لینے کا مقصد انتہائی جعلی رپورٹ لینا تھا۔اور ایسی رپورٹ حاصل کی گئی جو جے آئی ٹی کے مذموم مقاصد پورے کرتی ہے۔اور اس مقصد مجھے اور میرے شوہر کو کیس میں ملوث کرنا تھا۔۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے مجھے اور میرے خاوند کو شامل تفتیش ہونے کا حکم نہیں دیا تھا جب کہ واجد ضیاء نے جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی من گھڑت بیان دیا اور کہا کہ میں نے ٹرسٹ ڈیڈ کی دوبارہ تصدیق کی۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ایسکین کاپی کی بنیاد پر تیار کی گئی جو سائینسی فرانزک اصولوں سے مطابقت بھی نہیں رکھتی۔۔مریم نواز نے کہا کہ رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے۔جس پر انحصار نییں کیا جا سکتا۔یہ رپورٹ انتہائی عجلت میں بنائی جو یکطرفہ ہونے کے ساتھ ساتھ قابل بھروسہ بھی نہیں ہے۔اور قانون کے مطابق قابل قبول شہادت بھی نہیں جب کہ رپورٹ میں دی گئی رائے نہ مکمل ہے اور نہ ہی مضبوط ہے۔

مریم نواز نے روسٹرم پر آکر اپنے بیان میں کہا لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں، نیلسن اور نیسکول کے بینیفشل مالک بھی حسین نوازتھے، ان دونوں کمپنیوں کا ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے ٹرسٹی بنایا گیا، یہ حقیقت ہے میرے دادا میاں شریف پورے خاندان کی کفالت کرتے تھے، دادا خاندان کے اخراجات اٹھاتے، سب کو ماہانہ جیب خرچ بھی دیتے تھے۔۔۔مریم نواز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں نے جے آئی ٹی میں دونوں ڈیکلیریشن پیش کیے، دونوں ڈیکلیریشن نوٹری پبلک سے تصدیق شُدہ تھے، واجد ضیا نے جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت بیان دیا۔