محمد یاسین ملک کی طرف سے پارٹی رہنمائوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت

جمعہ مئی 11:40

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے پارٹی رہنمائوں سراج الدین میر، عبدالرشید مغلو اور شیخ نذیر احمد کی جموںکی کوٹ بھلوال جیل میں مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس ظاہر کیاکہ سراج الدین میر اور عبدالرشید مغلو پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لوگو کر کے جیل منتقل کیا گیا ہے جبکہ شیخ نذیر احمد عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سراج الدین میر عمر 70 برس اور وہ علیل ہیں جبکہ عبدالرشید مغلوحال ہی میں ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے اور کئی ادویات لینے پر مجبور ہیں تاہم انتظامیہ نے نہ صرف انہیںجھوٹے مقدمے میں جیل منتقل کردیا ہے بلکہ انہیں جموں منتقل کرکے مزید تکلیف میں ڈال دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ شیخ نذیر احمدجو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں کو بھی سرینگر سے جموں منتقل کردیا گیا ہے اور ان کی صحت بھی تیزی سے متاثر ہورہی ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ان کا کوئی پرساں حال نہیںہے۔

یاسین ملک نے جیلوں میں کشمیری نظربندوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حکام کا غیر انسانی رویہ اور ہتک آمیز سلوک کشمیری نوجوانوںکو پر تشدد تحریک پر مجبو رکر رہا ہے اور اس سے واضح ہوگیا ہے کہ کشمیر ایک پولیس اسٹیٹ ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین نے رمضان المبارک کے دوران جاری جبر و تشدد اور ظلم وبربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس او جی، پولیس،، فوج اور دوسری فورسز نے چھاپوں،گرفتاریوںاور گھروں کی تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے کولگام کے کئی علاقوں جن میں بدرو، مڈی بگ، یمبرچھ، کیموہ، کھڈونی اور آوورہ قابل ذکر ہیںاور سرینگر کے علاقہ ٹینکی پورہ میںلوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔

انہوںنے چھاپوں اور گرفتاریوں کی شدید ممزت کرتے ہوئے کہاکہ رمضان میں جاری یہ کاروائیاں ہر حال میں مذموم اور نام نہاد حکمرانوںکی کشمیر و مسلم دشمنی کا نتیجہ ہیں ۔