چنیوٹ میں مسلم لیگ ن کے جلسے میں شہباز شریف تن تنہا

چنیوٹ سے واپس آنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب ڈپریشن کا شکار، مقامی رہنماؤں کو سانپ قرار دے دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مئی 12:36

چنیوٹ میں مسلم لیگ ن کے جلسے میں شہباز شریف تن تنہا
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 مئی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی مبشر لقمان نے کہا کہچنیوٹ کے جلسے کے بعد وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف شدید ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں،اور اپنے قریبی حلقوں میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ کتنے سال ان مقامی لوگوں کو کھلایا پلایا ہے، لیکن یہ سارے سانپ ہیں،کئی مرتبہ ان کی وجہ سے جلسے منسوخ بھی ہوئے، ان سب سے 50،50 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وقت پڑنے پر نہ تو یہ لوگ خود آئے نہ کسی نے 5 سو روپے تک بھیجے۔

مبشر لقمان نے بتایا کہ مریم نواز نے اپنے والد کو صاف کہہ دیا ہے کہ آپ ہی مسلم لیگ ن کی رہنمائی کریں گے، میں نہیں چاہتی کہ چچا شہباز شریف کو کوئی بھی موقع ملے اور وہ کھُل کر کوئی انتخابی مہم چلا لیں،مریم نواز کا یہ خیال ہے کہ اگر نواز شریف کو سزا ہو گئی جو کہ ان کو لگ رہا ہے کہ اب ہونی ہے تو اس کے بعد مریم نواز ہی ن لیگ کی اصل اور حقیقی لیڈر بن پر اُبھریں گی،اور شہباز شریف صرف ٹرین کی چھتوں سے ہاتھ ہلاتے رہیں گے اور گھر کی چھتوں کو دیکھتے رہیں گے جس کے اوپر کوئی بندہ نہیں ہو گا۔

(جاری ہے)

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی بڑی منتیں کی جا رہی ہیں، اور انہی منتوں کا جواب ہے کہ بارڈر پر پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی نظر آ رہی ہے، تاکہ فوج کو مصروف رکھا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو رواں ہفتے چنیوٹ میں تب انتہائی شرمندگی اور بےعزتی کا سامنا کرنا پڑا جب شہباز شریف نے چنیوٹ میں ایک تقریب میں شرکت کرنا تھی،اور شہباز شریف جب اس تقریب میں پہنچے تو دیکھا کہ ارکان اسمبلی میں سے کوئی بھی نہیں آیا اور وہ اکیلے ہی اس تقریب میں موجود تھے۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس تقریب میں ارکان اسمبلی غلام لالی ، امتیاز لالی، ثقلین سپرا اور مولانا رحمت اللہ کو بھی آنا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔ جس کے بعد شہباز شریف نے اکیلے ہی چنیوٹ میں اسپتال کی نئی عمارت کا افتتاح کیا اور اپنا دورہ مختصر کر کے واپس چلے آئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی آمد پر چنیوٹ کی قیادت نے تقریب کا بائیکاٹ کر دیا۔

میڈیا ذارئع کے مطابق ایک رہنما کو تو زبردستی اسٹیج پر بلوایا گیا جبکہ وہاں موجود لوگ بھی اسٹیج پر آنے سے کترا رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چنیوٹ میں پارٹی صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز کو جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگ اب کے نزدیک آنا اور ان کے ساتھ تقاریب میں شرکت کرنے سے کترا رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کے اپنے رہنماؤں نے ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع کر دیا ہے، عین ممکن ہے کہ سیاسی رہنما ان کے ہمراہ تصاویر اور ویڈیوز میں نظر نہیں آنا چاہتے، دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پارٹی رہنماؤں نے اس تقریب کا بائیکاٹ کر کے شہباز شریف کو ناراضی کا پیغام دیا ہے کہ ہم آپ نے ناراض ہیں ۔

تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نواز شریف نے حالیہ بیانیے نے انتخابی اُمیدواروں کو ناراض کر دیا ہے،جو سیاسی رہنما عوامی شعور رکھتے ہیں اورجن کو علم ہے کہ ہماری عوام بھارت اور پاک فوج کے بارے میں کیا سوچتی ہے وہ بھی خود کو اب شریف خاندان سے دور رکھ رہے ہیں، اور اس طرح تقاریب کا بائیکاٹ کر کے وہ پارٹی رہنما شہباز شریف کو اپنی ناراضی بآور کروانا چاہتے ہیں، کہ اگر اب بھی آپ اس بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوئےاور نواز شریف سے جان نہ چھُڑوائی تو پھر ہم لوگ عوام میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں گے، اور آپ کے ساتھ بیٹھ نہیں سکیں گے۔