آپما نے کاغذ کے حوالے سے سیکشن 48اور49کے تضاد کو تباہ کن قرار دیا

جمعہ مئی 13:07

آپما نے کاغذ کے حوالے سے سیکشن 48اور49کے تضاد کو تباہ کن قرار دیا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) سینئر ممبر آپما خامس سعید بٹ نے کاپی مینوفیکچرنگ اور چھپی ہوئی کتب و میٹیرئل پر سیلز ٹیکس و ڈیوٹی کی چھوٹ کو کمرشل درآمد کنندگان کے لئے زہرقاتل قرار دیا ہے اس پر طرہ یہ کہ قرآن مجید کی طباعت کے لئے درآمد شدہ کاغذ پر چھوٹ بھی مشکلات میں اضافے کا باعث ہو گی۔ جب بھی کسی طرح کی چھوٹ دی جاتی رہی ہے اسکا ہمیشہ غلط استعمال ہی ہوا ہے۔

کاپی مینوفیکچرنگ کی چھوٹ سے مقامی مل مالکان کی لوٹ مار میں اضافہ ہو جائے گا اور سیلز ٹیکس کی ریکوری نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی ۔جبکہ چھپی ہوئی کتابیں وغیرہ کی درآمد پر ڈیوٹی کی چھوٹ سے مقامی سطح پر اس شعبے میں دو طرح کا نقصان ہو گا جہاں خام مال یعنی پیپر کا استعمال ختم ہو جائے گا وہاں پرنٹنگ انڈسٹری بھی تباہ ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

جبکہ مل مالکان پہلے ہی انڈرانوائسنگ ، انڈر پروڈکشن اور غیرمعیاری کاغذ کے ذریعے کروڑوں روپے کی لوٹ مار کررہے ہیں۔

درآمد کنندگان ملائشیاء،سنگاپور اور چائنہ سے ہی اپنی کتب چھپا کر سستی درآمد کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی طباعت کے لئے پیپر پر دی گئی چھوٹ سے نا جائز فائدہ اُٹھا یا جائے گااور یہ مال سستی قیمت پر مارکیٹ میں دستیاب ہو گا کیونکہ کمرشل امپورٹر اس سستے مال کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہیں گے۔ یہ چھوٹ تمام درآمدی کاغذ پر دی جائے یا قرآن مجید کے لئے خصوصی کاغذ )واٹر مارک(درآمد کیا جائے تاکہ وہ کمرشل استعمال نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر آپما کے نمائدوں سے مشاورت کے بعد فوری لائحہ عمل ترتیب دے۔

متعلقہ عنوان :