امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں یمن میں خوفناک انسانی بحران کی راہ ہموار کر رہی ہیں

اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوارڈینیٹر مارک لو کاک کا بیان

جمعہ مئی 13:25

اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں یمن میں خوفناک انسانی بحران کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوارڈینیٹر مارک لوکاک نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں دو کروڑ بیس لاکھ افراد افراد کی زندگیوںکا دارو مدار امداد پر ہے اور ان میں سے چوراسی لاکھ کے سروں پر فاقہ کشی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ایسی صورتحال میں ایک خوفناک انسانی بحران سے بچنے کیلئے یمن میں تمام متحارب فریق پرتشدد کارروائیاں فوری بند کریں، اگر یہ کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو رواں سال کے آخر تک مزید ایک کروڑ افراد ایسی ہی صورتحال میں چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یمن میں وبائی امراض پھیلنے سے ساٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے تھے اور رواں موسم گرما میں ایک بار پھر ہیضہ اور پیچش جیسے امراض کے وبائی صورت اختیار کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، اس کے علاوہ یمن میں پچیس فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں اور دہشت گرد انہیں باآسانی اپنا آلہ کار بناسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان حالات میں یمن میں کام کرنے والے امدادی اداروں کی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

ان اداروں کے کارکنان کو گرفتاری، ڈرانے دھمکانے، ویزوں کے اجراء میں تاخیری حربے حتیٰ کہ ویزے جاری کرنے سے انکار جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مارک لو کاک نے یمنی حکومت پر زور دیا کہ وہ امدادی اداروں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی پاسداری کرے اور ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالے جانے کے نتیجہ میں ان اداروں کی طرف سے یمن میں غذائی اشیاء کی درآمد میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن لائے جائے والے امدادی سامان کی کلیئرنس سعودی قیادت میں فوجی اتحاد اور اقوام متحدہ کا ویریفیکیشن اینڈ انسپیکشن مکینزم فار یمن کے حکام دیتے ہیں۔