روزہ دار افطار کے بعد توانائی بحال رکھنے کے لئے پانی میں تھوڑا سا نمک ڈال کر پئیں، ماہرین

جمعہ مئی 13:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) ڈاکٹروں اور ماہرین غذائیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شدید گرم موسم کے دوران روزہ افطار کے بعد توانائی بحال رکھنے کے لئے پانی میں تھوڑا سا نمک ڈال کر پئیں ایسے میں شکنجبین کا استعمال بہترین ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے تک جسم میں مائع اور خوراک کی کمی سے بلڈ شوگر کا توازن خراب ہو سکتا ہے اور ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر کے مریض خود کو ڈی ہائیڈریٹ نہ ہونے دیں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر وسیم خواجہ نے کہا کہ چونکہ رمضان کا مہینہ سخت گرم موسم میں آیا ہے اس لئے روزہ داروں کو اپنی صحت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس اور دیگر شدید امراض میں مبتلا لوگوں کو روزہ رکھنے کے دوران زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ محتاط رہنا چاہیے کیونکہ بلڈشوگر میں کمی سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم بلڈ شوگر کے حامل افراد کا روزہ رکھنا ایک مشکل کام ہے اور روزہ کھولنے کے بعد ان کے بلڈپریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے اسی طرح جسم میں پانی کی کمی بھی گردوں میں امراض کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ افطاری اور سحری کے اوقات میں زیادہ طاقتور غذائیں استعمال کی جائیں جن میں انڈے، پنیر، گوشت اور دودھ وغیرہ شامل ہیں، ڈاکٹر وسیم خواجہ نے مزید بتایا کہ کھجوریں توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں جس میں پوٹاشیم اور میگنیشم سمیت بھرپور توانائی موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غذائیں استعمال نہ کی جائیں جن سے بھوک اور پیاس میں اضافہ ہوتا ہے، پولی کلینک کے ڈاکٹر شریف استوری نے کہا کہ روزہ داروں کو کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں استعمال کرنی چاہئیں جن میں برائون بریڈ دلیہ اور ڈیری پراڈکٹس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سحری کے اوقات میں پیٹ بھر کرکھا لینے سے وہ دن بھر اچھا گزارہ کر سکتے ہیں اس قسم کی سوچ نامناسب ہے کیونکہ زیادہ کھانے پینے سے بدہضمی کے علاوہ جسم میں بے اطمینانی پیدا ہو گی اور بھوک پیاس میں اضافہ ہو گا، ایک خاتون ڈاکٹر صباء فیصل نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران تلی ہوئی اشیاء اور روایتی اشیائے خوردنی کھانے پینے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔