وزارت قومی صحت نے نوجوان نسل میں تمباکو نوشی کی روک تھام کیلئے مثبت کر دار ادا کیا،

امتناع تمباکو نوشی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنا رہے ہیں،حکام

جمعہ مئی 13:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) وزارت قومی صحت نے تمباکو نوشی کی روک تھام کیلئے اقدامات سے نوجوان نسل بالخصوص 18 سال سے کم عمر افراد میں تمباکو نوشی کے رحجان کو کم کرنے میں مثبت کر دار ادا کیا ہے۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے حکام نے جمعہ کو یہاں ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ وزارت قومی صحت نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آئندہ نسلوں کو بچانے کیلئے مروجہ امتناع تمباکو نوشی قوانین پر عملدرآمد کو وفاقی اور صوبائی سطح پر یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں جن پر ضلعی سطح پر خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیر قومی صحت کی جانب سے وزرائے اعلیٰ کو اپنے خطوط میں ملک بھر میں امتناع تمباکو نوشی کے قوانین کی ہونے والی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔

(جاری ہے)

اس سلسلہ میں امتناع تمباکو نوشی آرڈیننس 2002ء کی مختلف دفعات کے بارے میں بھی بتایا گیا جن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے درخواست کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ پر تمباکو نوشی پر مکمل پابندی کے علاوہ شیشہ پر پابندی عائد کی گئی۔

تمباکو کی مصنوعات 18 سال سے کم عمر بچوں کو فروخت کے تدارک کیلئے اقدامات کئے گئے۔ تعلیمی اداروں کے اندر اور 50 میٹر کی حدود میں سگریٹ اور تمباکو کی مصنوعات رکھنے اور فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی اور پکٹوریل وارننگ کے بغیر سگریٹ کی فروخت کو ممنوع قرار دے کر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے جس پر ضلعی سطح پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

پولیس آفیسرز اس قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون پر عملدرآمد کرنے کے مجاز ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سووموٹو کیس میں صوبائی چیف سیکرٹریز کو 2002ء کے قانون پر عملدرآمد کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ ان تمام اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں جن کا اعتراف عوامی سطح پر بھی کیا جانے لگا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً 108800 افراد سالانہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مروجہ امتناع تمباکو نوشی قوانین پر عملدرآمد کرکے لوگوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔