1991ء میں بحیثیت آئی ایس آئی سربراہ خفیہ طورپر''را'' کےسربراہ سےملاقات کی

ہماری ملاقاتیں دو دن تک ہوئیں ۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے انکشافات

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ مئی 14:37

1991ء میں بحیثیت آئی ایس آئی سربراہ خفیہ طورپر''را'' کےسربراہ سےملاقات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 مئی 2018ء) :لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہان کے درمیان اداروں کی سطح پر ملاقات کے طریقہ کار پر بات کی اورانکشاف کیاکہ انہوں نے 1991ء میں بحیثیت سربراہ انٹرسروسز انٹلی جنس (آئی ایس آئی) خفیہ طورپر بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسزونگ (را) کےسربراہ سے سنگاپور میں ملاقات کی تھی۔

اسد درانی نے بتایا کہ یہ 1991ء میں سنگاپورمیں ہوئی تھی۔اس وقت باجپائی بھارتی ایجنسی را کے سربراہ تھے۔اسد درانی نے بتایا کہ را کے سربراہ سے میری ملاقاتیں دو دن تک ہوئی تھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)اسد درانی نے اپنی کتاب ’’دی سپائے کرونیکلز:را، آئی ایس آئی اینڈ دی الویژن آف پیس‘‘ ، جو انہوں نے سابق را چیف اے ایس دولت کے ساتھ مل کر تحریر کی ہے، اس میں کہا کہ’’مجھےیقین ہے کہ ہماری ملاقات کا موضوع کشمیر کی شورش تھا کیونکہ جب میں نے اگست 1990ء میں آئی ایس آئی میں شمولیت اختیار کی تھی تو یہ پہلے ہی پروان چڑھ چکی تھی۔

(جاری ہے)

نام نہاد گیٹس مشن کے بعد حالات کشیدہ ہورہے تھے لہٰذا ہمارے دفتر خارجہ کے اقدام کے باعث چھ ماہ کے بعد ہماری ملاقات ہوئی تھی،اس کا سارا کریڈٹ انہیں جاتا ہے۔ جب آپ کسی سے پہلی مرتبہ ملاقات کرتے ہیں تو آپ اپنا کافی وقت ان کے بارے میں اندازہ لگانے میں ہی گزارتے ہیں، آپ یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کتنا بتانا چاہتا ہےاور کتنی بات کرنا چاہتا ہے۔

یہ ہمیشہ دوسری ، تیسری یا چوتھی ملاقات میں ہوتا ہے کہ آپ اندازہ لگا چکے ہوتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ صرف تحقیقات ہی ہوتی ہیں۔‘‘ اس صحافی کے پاس بھی یہ کتاب دستیاب ہے۔ یہ کتاب دو سابق سپائے ماسٹرز کے درمیان لمبی چوڑی ملاقاتوں کا بیان ہےجسے بھارتی مصنف اور صحافی ادتیا سنہا نے ترتیب دیاہے۔ ’’دی انٹلیجنس ڈائیلاگ‘‘ کے باب میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسددرانی نے اس وقت کےاپنے’’را‘‘ کے ہم منصب باجپائی کے ساتھ ملاقاتوں کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہواتھا۔

ہم ملےتھے۔ میں ایک بات کے بارے میں واضح تھا کہ وہ شخص ایک تجربہ کار انٹلی جنس اہلکار ہیں۔ وہ را کا سربراہ تھا۔ اس نے اپنی زندگی اسی کیرئیر میں لگائی تھی۔ جبکہ میز کے اس طرف ایک ایسا شخص تھا جو ابھی داؤ پیچ سیکھ رہا تھا، اور میرا نہیں خیال تھا کہ کوئی ایک سال میں یا وہ مشترکہ وقت جو میں نے ایم آئی اور آئی ایس آئی میں گزارا تھا اس میں کوئی سب کچھ سیکھ سکتا ہے۔

میرے لیے بہت زیادہ محتاط ہونا ضروری تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لہٰذا میں اور باجپائی ایک مرتبہ ملے لیکن اس کی پیروی نہیں ہوئی۔ اگر دونوں ممالک بہت سوچ سمجھ رکھتے تو وہ درست طور پر اس کی پیروی بھی کرتے۔ لیکن وہ اپنے خوف کے باعث ایسا نہیں کرسکے۔ ورنہ حمید گل کی اے کے ورما کے ساتھ ملاقات، میری ملاقات اور دیگر دو کی ملاقاتیں ہر بار اعلان کیے بغیر اداروں کی سطح پر ہوسکتی تھیں۔

لہٰذا ہر بار جب دو سربراہان ملے تو یہ نئے سرے سے شروع ہوئیں۔ ان میں کوئی تسلسل نہیں تھا۔ یہ مشرف کے چارنکات کے بعد نہیں ہوئیں، آپ وہاں سے شروع کریں۔‘‘ اس موقع پر اسد درانی، اے ایس دولت اور ادتیا سنہا کے درمیان ہونے والی بحث کچھ اس طرح تھی ،اے ایس دولت: کیونکہ یہ اداورں کی سطح پر نہیں تھیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ انٹلی جنس سربراہان کافی بڑے ہیں تو اسے کچھ نچلی سطح پر لے جائیں یا درمیانی سطح پر لے جائیں۔

لیکن ملاقاتیں ہونے دیں۔ اگر یہ اداروں کی سطح پر ہوں گے تو کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلے گا۔ اسد درانی: کسی بھی صورت میں اگرکوئی ریاستی امورجانتا ہےتو اسے پتہ ہوگا کہ اگر را چیف اور آئی ایس آئی چیف کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ ہوکر رہے گا۔ پوری اسٹیبلشمنٹ کو شامل کرنا پڑتاہے۔ اے ایس دولت: میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں، میں یہ کہتا ہوں کہ برائے مہربانی آئی ایس آئی چیف اور را چیف کو ایک موقع تو دیں۔

ایک شفاف موقع جس میں انہیں یقین ہونا چاہئیے۔ ہمارے لیے یقین کرنا آسان ہے کیونکہ ہم اب اس سے باہر ہیں۔ لیکن اگرآپ کے پاس ایک آئی ایس آئی چیف اور ایک را چیف ہے جنہیں یقین ہے کہ کام ہوگا حتیٰ کہ چھوٹا کام بھی ہوگا۔ اسد درانی: ایک چھوٹی سی وجہ کے باعث ایسا موقع نہیں دیا جاسکتا کہ جب میں اپنے ہم منصب سے ملا تو میں انہیں نہیں جانتا تھا اور میرانہیں خیال کہ وہ بھی مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔

ہمارا نتیجہ یہ تھا کہ ہم اس پر قائم رہیں گے۔ لیکن انہیں اجازت نہیں ملی۔ میرے کیس میں محض اتنا کہہ سکتے تھے، ہاں بھائی کرتے رہے۔ اور پھرایک شدید خاموشی تھی۔ اے ایس دولت: اب ایسا لگتا ہے کہ کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں، کبھی بھی نہیں۔ اسد درانی: کیا آپ کو یقین ہے کہ اب کوئی ملاقات نہیں ہورہی؟ ادتیا سنہا: کیا موجودہ را اور آئی ایس آئی سربراہان ملاقات کرتے ہیں؟ اے ایس دولت: کون جانتاہے؟ ہمیں جاننا بھی نہیں چاہیے۔

اسد درانی: یہ درست جواب ہے۔ اگر وہ حقیقت میں سنجیدگی سے مل رہے ہیں، تو ہمیں علم نہیں ہونا چاہیے۔اے ایس دولت: میں یقیناً نہیں جانتا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ آخری بار کب ملے تھے۔ جنرل صاحب مل چکے ہیں احسان صاحب مل چکے ہیں۔ ادتیا سنہا: آپ جنرل محمود سے نہیں ملے؟اے ایس دولت: نہیں، میں نہیں ملا۔اسد درانی: جب میں باجپائی سے ملاتھا تو صرف ہمارے پانچ یا چھ لوگوں کو پتہ تھا۔

اور کئی سال تک میں اس سے انکار کرتارہا۔ رحمان نے اس کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب میں یہ کہنے کا فیصلہ کیا کہ ہاں میں را چیف سے ملاتھا۔ اے ایس دولت: یہ ایسا کام تھا جو میں ہمیشہ کرنا چاہتاتھا۔ پاکستانی دوستوں نے مدد کی اور میں واحد را چیف ہوں جو پاکستان گیا، ایک مرتبہ نہیں بلکہ چار مرتبہ گیا تھا۔ میں پاکستانی ٹی وی پر بھی گیا تھا۔

ہمارے دوست اعجاز حیدر مجھے ٹی وی پر لائے تھے اور بعد میں میرے ساتھ چائے پی تھی۔ انہوں نے کہا: آپ کا شکریہ ، میرے لیے یہ بہت بڑی بات ہے کیونکہ پاکستان میں کبھی کسی نے راچیف کو ٹی وی پر نہیں لیا۔اسد درانی: کوئی جو جانتا تھا کہ میں کبھی ٹی وی نہیں دیکھتا تھا اس نے مجھے فون کیا اور کہا ’جلدی کروجلدی کرو، ٹی وی لگائو،‘ اوراے ایس دولت صاحب وہاں تھے۔

میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہاں، بے شک پاکستان میں میرا ایک دوست ہے، اور انہوں نے میرانام لے لیا۔ادتیا سنہا: اپنی کتاب میں آپ نے کہاتھاکہ اپنے اثررسوخ کے باعث بہترین انٹلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی ہے۔ اے ایس دولت: میں اس پر قائم ہوں۔ جنرل صاحب را کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مہربان تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مخالف کے بارے میں جو کچھ ہم سوچتے ہیں وہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنی ہی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ جب میں نے اور انہوں نے بات کی ، اگر ہم ایماندار ہیں تو ہم حقائق پر بات کررہے ہیں۔ ورنہ یہ صرف اندازہ ہے، اور باقی سب کچھ افواہ ہے۔