نیب نےفواد حسن فواد کو یکم جون کوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

فوادحسن فواد کو بیان ریکارڈ کرانےاورسوالنامے کا جواب جمع کرانے کیلئے پہلے بھی طلب کیا تھا، لیکن فواد حسن پیش نہ ہوئے۔میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 15:07

نیب نےفواد حسن فواد کو یکم جون کوذاتی حیثیت میں طلب کرلیا
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 مئی 2018ء) : نیب نے فواد حسن فواد کو یکم جون کودوبارہ ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے،فوادحسن فواد کو بیان ریکارڈ کرانےاورسوالنامے کا جواب جمع کرانے کیلئے طلب کیا تھا، لیکن فواد حسن پیش نہ ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب لاہور نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کرپشن کیس میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

فواد حسن فواد کو یکم جون کو طلب کیا گیا ہے۔اس سے قبل بھی نیب نے فواد حسن فواد کو بیان ریکارڈ کرانےاورسوالنامے کا جواب جمع کرانے کیلئے طلب کیا تھا۔ لیکن وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے سامنے پیش نہ ہوئے۔ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب نے سابق چیئرمین ایل ڈی اے احد چیمہ کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔

(جاری ہے)

احد چیمہ سے آشیانہ اسکیم سمیت دیگر کیسز میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب نیب نےڈائریکٹرمردان میڈیکل کمپلیکس کی غیرقانونی تقرری کی انکوائری کی منظوری دے دی ہے۔ نیب اجلاس میں پبلک سروس کمیشن میں کرپشن کی انکوائری کی بھی منظوری دی گئی۔ ٹی ایم اے کی 40 آسامیوں کے ریکرٹرومنٹ امتحان میں کرپشن کی گئی۔ اسی طرح محکمہ معدنیات میں غیرقانونی طور پرٹھیکہ دینے کی انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔ واضح رہے گزشتہ روز بھی چیئرمین نیب کی صدارت میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔

جس میں مختلف ریفرنسز میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ نئے ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ نیب نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز،،،لیاقت جتوئی،، سابق سیکرٹری وزارت پانی وبجلی اسماعیل قریشی، سابق جوائنٹ سیکرٹری وزارت پانی وبجلی غلام نبی منگریو،سابق ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پانی وبجلی یوسف میمن اورسابق سیکشن آفیسر وزارت پانی وبجلی عمر فاروق کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

میٹروپراجیکٹ ملتان کیلئے غیرقانونی زمین خریدنےاور ٹھیکہ دینے کے مبینہ الزام کی تحقیقات کی منظوری دی گئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کےقائم مقام ایم ڈی عمران نوراورملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے منیجر ایچ آرعامر مقبول کیخلاف انکوائری کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ ملزمان پراختیارات کے ناجائز استعمال اور 104ملین روپے کے نقصان کا الزام ہے۔ نیب ایگزیکٹوبورڈ نے بینک آف پنجاب کے افسران کیخلاف انکوائری کی بھی منظوری دےدی۔ای اوبی آئی انتظامیہ پر3.8ارب روپے کے شیئرز بینک آف پنجاب میں غیرقانونی طورپرخریدنے کا الزام ہے۔ نیب ایگزیکٹوبورڈ نے ای اوبی آئی انتظامیہ کیخلاف انکوائری کی منظوری دےدی ہے۔