آسٹریلیا میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کی کارروائیاں ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں، سربراہ آسٹریلوی خفیہ ادارہ ڈنکن لیوس

جمعہ مئی 15:29

سڈنی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) آسٹریلوی خفیہ ادارے ای) ایس آئی او( کے سربراہ ڈنکن لیوس نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کی کارروائیاں ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں اور ان سے آسٹریلوی حکومت کے مفادات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔آسٹریلین سکیورٹی انٹیلیجنس آرگنائزیشن ( اے ایس آئی او) کے سربراہ ڈنکن لیوس نے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان میں انکشاف کیا کہ حالیہ عرصہ کے دوران آسٹریلیا میں غیر ملکی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دفاع اور معیشت کے شعبوں میں آسٹریلیا کی دیگر ممالک کے ساتھ شراکت اور معاہدوں کے حوالے سے خفیہ دستاویزات تک رسائی غیر ملکی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کا اہم ہدف ہے۔

(جاری ہے)

اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی جاسوس آسٹریلیا میں توانائی، معدنی وسائل، سائنس و ٹیکنالوجی اور ایجادات کے حوالہ سے معلومات کے بھی درپے ہیں۔جاسوسی، مداخلت، سبوتاژ اور دیگر منفی سرگرمیاں آسٹریلیا کے مفادات کو تباہ کن نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ایسے اقدامات ہماری خود مختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لئے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔آسٹریلیا کے خلاف جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکی خفیہ اداروں کے ارکان کی تعداد سرد جنگ کے زمانے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے قومی سلامتی کے قوانین میں ضروری ترامیم کرے۔واضح رہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق آسٹریلیا میں چینی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔