آئرلینڈ میں اسقاط حمل قوانین پر ریفرینڈم کا آغاز ہو گیا

موجودہ قوانین میں اسقاط حمل کی اجازت صرف عورتوں کی زندگی خطرے میں ہونے کی ہے

جمعہ مئی 15:56

ڈبلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) آئرلینڈ میں اسقاط حمل قوانین پر ریفرینڈم کا آغاز ہو گیا،ریفرنڈم میں پہلے سے موجود قوانین کو برقراررکھنے یااس میں ترمیم کرنے کے بارے میں عوامی رائے لی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آئرلینڈ میں موجودہ قوانین کے تحت اسقاط حمل کی صرف عورتوں کی زندگی خطرے میں ہونے کی صورت میں اجازت ہے ۔

موجودہ قوانین کے تحت اسقاط حمل کی صرف عورتوں کی زندگی خطرے میں ہونے کی صورت میں اجازت ہے ۔

(جاری ہے)

اسقاط حمل کا موجودہ قانون 1983میں ہونیوالے ریفرنڈم میں وضع کیاگیا تھا جس کے تحت ماں کے ساتھ ساتھ اس کے ہونے والے بچے کی زندگی کو مساوی قراردیا گیاتھا۔ریفرنڈم سے پہلے آئرش وزیرصحت نے مجوزہ قانون کا مسودہ تیار کیا جس کے تحت خواتین کو حمل ٹھہرنے کے 12ہفتوں کے دوران اسقاط حمل کی اجازت ہوگی اور کچھ صورتوں میں اس مدت کے بعد بھی ہوگی۔گزشتہ سال برطانیہ کی حکومت نے شمالی ا?ئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو انگلینڈ میں مفت اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :