طےکیا تھاجج یاجرنیل نگران وزیراعظم نہیں ہوگا،پیپلزپارٹی کی یادہانی

پیپلزپارٹی کا وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈرکا اسپیکرکوخط لکھنےکا فیصلہ، نگران وزیراعظم کےمعاملے پراب وزیراعظم سےملاقات نہیں ہوگی،معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائےگا۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ مئی 15:48

طےکیا تھاجج یاجرنیل نگران وزیراعظم نہیں ہوگا،پیپلزپارٹی کی یادہانی
اسلام آباد (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 مئی 2018ء) : پاکستان پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کو یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ طے کیا تھا کہ ریٹائرڈ جج یا جرنیل کونگران وزیراعظم نامزدنہیں کیا جائے گا، نگران وزیراعظم کے معاملے پراب وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوگی، نگران وزیراعظم کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اوراپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے نگران وزیراعظم کے معاملے پراسپیکر قومی اسمبلی کوخط لکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

خط میں پیپلزپارٹی نے مئوقف اختیار کیا ہے کہ پیپلزپارٹی طے کئے گئے معاملات پرپیچھے ہٹنے پروزیراعظم کوتحفظات سے آگاہ کرے گی۔ ن لیگ نے طے کیا تھا کہ ریٹائرڈ جج یا جرنیل کونگران وزیراعظم نامزد نہیں کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

لیکن مسلم لیگ ن نے طے شدہ اصول سےانحراف کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت خورشید شاہ اپنے خط میں مئوقف اختیارکریں گے کہ نگران وزیراعظم کا معاملہ حل نہ ہوا تو کمیٹی کیلئے2 نام بھجوا دوں گا۔

اسپیکرکو تحریری طورپر بھیجے گئے2 نام جلیل عباس جیلانی اور ذکاء اشرف حتمی تصورہوں گے۔ دوسری جانب گزشتہ روز وزیراعظم شاہ خاقان عباسی نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے 3،3 نام دیے۔ خورشید شاہ نے تین نام دیے جن پراتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ اب پیر تک چوتھے نام پراتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدم اتفاق کی صورت میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔

کمیٹی کو دو،دو نام دونوں جانب سے دیے جائیں گے۔ انہوں نے ایک سوال پرکہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کبھی نہیں کیا نہ ہی آئندہ کبھی بائیکاٹ کریں گے۔ نگران وزیراعظم کیلئے مسلم لیگ ن کے ناموں میں ڈاکٹر عشرت حسین، جسٹس(ر))تصدق جیلانی اور جسٹس ر ناصرالملک شامل ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے ناموں میں عشرت حسین، جسٹس(ر))تصدق جیلانی اور عبدالزاق شامل ہیں۔ تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اب معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں لے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے طے شدہ معاملے سے انحراف کیا لہذا اب نگران وزیراعظم کے معاملے پر وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوگی۔