اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے سروں سے چھت چھین لی

غرب اردن میں180نفوس پر مشتمل گائوں کو مسمارکرنے کا حکم،متبادل جگہ دینے کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے،عدالتی فیصلہ

جمعہ مئی 16:31

مقبوضہ بیت المقدس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) اسرائیلی سپریم کورٹ نے یورپی ملکوں کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن میں بدوؤں کے ایک گاؤں کو بچانے کی مہم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے گرانے کی منظوری دیدی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گاؤں کے بچاؤ کی مہم چلانے والوں نے بتایا کہ فیصلے کے بعد خان الاحمر نامی گاؤں کے بچاؤ کے تمام قانونی طریقے ختم ہو چکے ہیں،یہ گاؤں مشرقی یروشیلم میں متعدد یہودی بستیوں کے قریب واقع ہے،180نفوس پر مشتمل گاؤں کو گرانے کی کارروائی کب شروع ہو گی،فیصلے میں اس کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ہمیں خان الاحمر گاؤں میں بنائے گئے غیر قانونی رہائشی ڈھانچے مسمار کرنے سے متعلق اسرائیلی وزیر دفاع کے حکم میں مداخلت کا کوئی جواز نظر نہیں آتا،خان الاحمر کے متاثرین کو دوسری جگہ منتقل کرنے سے متعلق دلائل کو ناقدین جبری منتقلی قرار دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت کے مطابق گاؤں متعلقہ حکام سے تعمیر کی اجازت کے بغیر آباد کیا گیا تھا،غرب اردن میں اسرائیل کے زیر نگین علاقوں میں ایسی تعمیرات کیلئے قانونی اجازت ناموں کا حصول فلسطینیوں کیلئے ناممکن ہوتا ہے۔

بدوؤں کے گاؤں کے بچاؤ کا مقدمہ لڑنے والے وکیل شلومو لیکر نے بتایا کہ اعلیٰ اسرائیلی عدالت نے فیصلے میں بدوؤں کو کم سے کم تحفظ دینے سے متعلق اپنے ہی سابقہ حکم کو بھی حتمی اعلان میں واپس لے لیا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ عالمی انسانی قانون کے طے شدہ معیار کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایسا فیصلہ صادر کر کے اسرائیلی عدالت نے انسانیت کیخلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے،گاؤں کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والی یورپی حکومتیں یقیناً اس فیصلے پر اپنے غم وغصے کا اظہار کریں گی۔