عرب ممالک کیساتھ بائیکاٹ کے بعد قطر نے بہت نقصان اٹھایا،سلطان بن سحیم

جب حکام عوامی مفادات کیساتھ کھیلنا شروع کر دیں تو ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے،بیان

جمعہ مئی 16:31

دوحہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) قطری حکومت کے مخالف اور آل ثانی خاندان کے سرکردہ رہنما شیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے کہاہے کہ گزشتہ برس چاروں عرب ممالک کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سے قطر کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔گزشتہ روز قطری حکومت کے مخالف اور آل ثانی خاندان کے سرکردہ رہنما شیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عرب ممالک کیساتھ بائیکاٹ اعلان کے بعد سے دوحہ کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے،حکام نے دوڑ کر بہت سے دارالحکومتوں کو گئے اور ان کی کوششیں خاک میں مل گئیں۔

شیخ سلطان نے کہا کہ جب تک قطب نما غیر متوازن ہے اس وقت تک قطر ہر گز کوئی حل نہیں پا سکے گا،بائیکاٹ کو ایک برس گزر گیا۔ اس دوران میرے وطن نے بہت کچھ کھو دیا اور اپنے اطراف سے مزید دور ہو گیا۔

(جاری ہے)

آل حمد کی حکومت کے مواقف پر ڈھٹائی چھائی ہوئی ہے۔جب تک ان کی ہٹ دھرمی قائم ہے اس وقت تک انہیں عوام کے خسارے کی کوئی پروا نہیں۔شیخ سلطان کے مطابق یہ لوگ یورپ گئے ان کا بحران حل نہ ہوا۔

روس کا رخ کیا ناکامی ان کا مقدر بنی۔ واشنگٹن کے لیے رخت سفر باندھا مگر ان کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔یہ لوگ اور زیادہ تھکتے رہیں گے اور طویل سفر کرتے رہیں گے تاہم جب تک قطب نما غیر متوازن ہے اس وقت تک حل ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔شیخ سلطان کا کہنا تھا کہ ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کے ہر دن کی قیمت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب عوام کے مفادات سے کھیلا جائے۔ ہم ان کو فردا فردا ہر اس شخص کی یاد دلائیں گے جنہوں نے ان کے پڑوسی اور برادر ممالک سے قبل ہمارے سے خیانت کا ارتکاب کیا۔