مصنف محمد حفیظ خان کا ناول ’’ادھ ادھورے لوک‘‘ کے نام سے شائع ہو گیا

جمعہ مئی 16:56

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) نام اور مصنف، ڈرامہ نگار، افسانہ نویس اور لاتعداد کتب کے تخلیق کار محمد حفیظ خان کا 256 صفحات پر مشتمل سرائیکی زبان میں لکھا ہوا ایک اہم موضوع پر ناول ’’ادھ ادھورے لوک‘‘ کے نام سے ملتان انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام شائع ہو گیا ہے۔ قیمت350/-روپے ہے اور انتساب خالد فتح محمد کے نام ہے۔

مصنف نے یہ ناول 37 ابواب میں منقسم کرتے ہوئے کم کرداروں کے ذریعے مرکزی خیال ، کہانی اور پلاٹ کا تانا بانا بُنا ہے۔ اس ناول میں فیاض مرکزی کردار ہے جبکہ دیگر کرداروں میں رام لعل، تلسی، وشنو، رادھی اور وادھو نمایاں ہیں۔ حفیظ خان نے اس ناول میں ’’ون یونٹ‘‘ کو موضوع بناتے ہوئے اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ صدیوں سے اس خطے میں رہنے والے کروڑوں لوگ شب بھر میں اپنی شناخت کے بحران میں یوں مبتلا کر دیئے گئے کہ زندہ رہنے کا ہنر تک بُھلا بیٹھے۔

(جاری ہے)

مصنف لکھتے ہیں کہ ناول ’’ادھ ادھورے لوک‘‘ ریاست بہاولپور میں جنم لینے والے فیاض جیسے اُن بدقسمت کرداروں کی بیتا ہے جو ون یونٹ جیسی سیاسی جکڑ بندی کے ٹوٹنے اور بہاولپور صوبہ بحالی کی امید میں اپنی غصب شدہ پہچان تلاشنے کے سفر پر نکلے تھے۔ مصنف حفیظ خان کی شائع شدہ درجنوں کتب میں کچ دیاں ماڑیاں ، ویندی رُت دی شام، ماما جمال خان ، اتفاق سے نفاق تک، یہ جو عورت ہے، خواب گلاب، رُٹھڑے پندھ، اس شہرِ خرابی میں، مآثر ملتان،، کافی کا صنفی محاکمہ، ملتان نصف جہان، کلام خرم بہاولپوری، پٹھانے خان اور بہت سی دوسری کتب شامل ہیں۔ وہ مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔ ان دنوں جوڈیشنل اکیڈمیں اعلیٰ عہدے پر تعینات ہیں۔

متعلقہ عنوان :