آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس، فنانس یکٹ 2018 اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا

جمعہ مئی 16:58

مظفر آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس جمعہ کے روز سپیکر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ اجلاس میں آزاد جموںوکشمیر فنانس ایکٹ 2018اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کے رکن ممبر اسمبلی ملک محمد نواز کے ایک سوال کے جواب میں آزاد کشمیر کے وزیر سپورٹس چوہدری محمد سعید نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ سپورٹس کی ترقیاتی سکیم تعمیر سکندر حیات سپورٹس سٹیڈیم کوٹلی کیزمین اے ایوارڈ 10-09-2004کو ہوا۔

جبکہ سٹیڈیم کا تعمیراتی کام مالی سال 2004-05میں شروع ہوا۔ یہ سکیم ابتدائی طور پر 186.623 ملین روپے ہوئی جس میں سے سے کشمیر کونسل کا شیئر 88.600ملین روپے اور آزاد حکومت کا شیئر 98.023ملین روپے تھا ۔

(جاری ہے)

متذکرہ سکیم کیلئے کشمیر کونسل نے تعمیراتی کام کیلئے سال 2009-10تک 68.000 ملین روپے کے فنڈز ریلیز کیے تھے ۔ کشمیر کونسل اپنی سالانہ ADP میں فنڈز مختص کرتا ہے تاہم خط وکتابت کے باوجود کشمیر کونسل نے فنڈز ریلیز نہیں کئے جس کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا چلا آرہا ہے جبکہ سکندر حیات سپورٹس سٹیڈیم کوٹلی کو مکمل کرنے کیلئے محکمہ سپورٹس نے ADP سال 2017-18 میں بطور نیو سکیم (فیز۔

II) شامل کی گئی ہے ۔ متذکرہ سکیم کا PC-Iرقمی 282.729ملین روپے مرتب کر کے متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا چکا ہے ۔ انشا ء اللہ عرصہ چھ ماہ کے اندر گرائونڈ فنکشنل کرتے ہوئے سپورٹس سرگرمیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ تعمیراتی کام عرصہ دو سال کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ قبل ازیں گزشتہ روز وزیر حکومت چوہدری محمد یاسین گلشن کو برین ہمیرج کی کی بیماری میں مبتلا ہو کر ہسپتال میں زیر علاج ہیں کی صحت یابی کیلئے ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی نے دعا کی ۔

اجلاس میں ممبر اسمبلی عبدالماجد خان کے توجہ دلائو نوٹس پر سپیکر آزاد جمو ںوکشمیر شاہ غلام قادر نے رولنگ دی کہ آزاد جموںوکشمیر الیکشن کمیشن کی مشتہر کردہ خالی اسامیوں میںکوٹہ کے تعین تک التواء میں رکھا جائے اور کوٹہ کے تعین کے بعد دوبارہ اشتہار مشتہر کروایا جائے ۔ سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق اور وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی نے ممبر اسمبلی ماجد خان کے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی کی مشتہر کردہ آسامیوں میں کوٹة کے حوالہ سے تحفظات کو دور کیا جائے گااور رائج شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی تقرریاں عمل میں لائی جائیں ۔

اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن ممبران اسمبلی سردارصغیر احمد خان اور عبدالماجد خان نے بھی اظہار خیال کیا ۔ اجلاس میں محترمہ شازیہ اکبر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت بل پاس کرنے پر حکومت آزاد کشمیر کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔ اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات کرنل (ر) وقار احمد نور نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی اور ان کی ٹیم کو ایک ریکارڈ تاریخی اور متواز ن بجٹ پیش کرنے پر خراج تحسین اور مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو فراخدلانہ فنڈز مہیا کرنے پر قائد پاکستان ن لیگ میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قائد نواز شریف کی خصوصی دلچسپی تھی جوانہوں نے وعدے کیے ہیں وہ پورے کیے اور آزاد کشمیر کا ترقیاتی بجٹ 11ارب روپے سے بڑھا کر 25ارب کر دیا گیا ہے اور یہ میاں نواز شریف کی شفقت اور وزیر آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی انتھک محنت اور لگن اور ذاتی کاوشوں کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ۔

وقار احمد نو ر نے کہا کہ حکومت نے پبلک سروس کمیشن کی تشکیل نو این ٹی ایس کے نفاذ اور ہسپتالوں میںایمرجنسی سروسز سے عام آدمی کی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی آئے گی ۔وقار احمد نور نے کہا کہ گزشتہ سال اور رواں سال روڈ نیٹ ورک کو بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ عوام تک یہ سہولیات پہنچ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ، واٹر سپلائی ، روڈ نیٹ ورک اور دیگر عوامی منصوبوں پر توجہ دی جارہی ہے ۔

انہون نے کہا کہ بجٹ کے ثمرات ایک عام آدمی تک پہنچ سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میںہر حلقہ میں 15,15کلومیٹر سڑکیں دی جارہی ہیںاس سے بھی عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دے رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں ۔ وزیر حکومت نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاحت کی ترقی کے لئے 11ملین روپے رکھے گئے ہیں تاکہ سیاحت کی ترقی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیاح آزاد کشمیر آئیں ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا اعلان کر رہے ہیں ان سے کوئی پوچھے کہ یہ کہاں سے دیں گے ۔ وقار احمدنور نے کہا کہ حکومت پاکستان کی فراخدلانہ فنڈز کی فراہمی اور وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی انتھک محنت اور دلیرانہ قیادت میں آزاد کشمیر میں تعمیر وترقی کا سفری جاری رہے گا۔

آزادکشمیر کے وزیرتعلیم بیرسٹر افتخا ر گیلانی بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ موجودہ بجٹ پیش ہونے والے پچھلے بجٹ سے منفرد ہے اور پہلی دفعہ آزادکشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ماضی میں جب این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھا تو آزادکشمیر کا حصہ کم ہوا ۔100فیصد اضافہ کر وانے کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے ۔ وزیر تعلیم نے کہاکہ وزیر اعظم آزادکشمیر اور ان کی ٹیم کی ذاتی کاوشوں اور محنت کا نتیجہ ہے ۔

ماضی کے مقابلے میں بہت بڑا اضافہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خطہ کی ترقی کیلئے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ سے عام آدمی تک ثمرات پہنچیں گے ۔ حکومت میں آنے کے بعد پہلی کوشش تھی کہ محکمہ تعلیم میں حقیقی معنوں میں تبدیلی لا سکیں ۔ ہم نے محکمہ تعلیم میں تقرریوں میں شفافیت لانے کیلئے این ٹی ایس کا نفا ذ کیا ، یہ بہت مشکل کام تھا ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے شعبہ میں انتظامی ڈھانچے میں بھی اصلاحات لا رہے ہیں ، عوام جلد انتظامی ڈھانچے میں بھی فرق محسوس کرینگے ۔

انہوں نے کہاکہ سکولوں میں ٹھیکہ سسٹم کو ختم کرنے کیلئے ایک جامع پالیسی بنائی ہے ۔کالجز میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے سو فیصد بائیو میٹرک سسٹم رائج کررہے ہیں ۔ بیر سٹر افتخار گیلانی نے کہاکہ آزادکشمیر میں لٹریسی ریٹ بہت بہتر ہے ،کوالٹی آف ایجوکیشن پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریز قائم کررہے ہیں ۔

رواں مالی سال محکمہ تعلیم کے سکولوں اورزمین کا لینڈ ریکارڈ مرتب کرینگے تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ کتنے سکولوں کے پاس کتنی زمین موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے ساتھ ملکر معاہدہ کیا ہے۔ ٹیچرز ٹریننگ کو ضروری قراردیا گیا ہے تاکہ معیار تعلیم بہتر ہو اور اساتذہ کی کارکردگی میں نکھار آ سکے ۔ وسائل میں رہتے ہوئے اس منصوبے کو شروع کررہے ہیں جس سے معیار تعلیم بہترہو اور ریاست کا وقار بلند ہو ۔

انہوں نے کہاکہ جہاں جہاں بہتری کی ضروت ہو نشاندہی کریں۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی کو ایک تاریخی ، متوازن اور مثالی بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد سٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تمام منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل کی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی کوتاہی اور تاخیر ہر گز برداشت نہیں کرونگا۔